حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 76 of 148

حقیقتِ نماز — Page 76

حقیقت نماز لینا یہ گناہ ہے اور اس سے شرک لازم آتا ہے۔اس لحاظ سے کہ اللہ تعالی نے اُن کو حاکم بنایا ہے۔اُن کی اطاعت ضروری ہے، مگر اُن کو خدا ہر گز نہ بناؤ۔انسان کا حق انسان کو خدا تعالیٰ کا حق خدا تعالیٰ کو دو۔پھر یہ کہو۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہم کو سیدھی راہ دیکھا۔یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیے اور وہ نبیوں، صدیقوں ،شہیدوں اور صالحین کا گروہ ہے۔اس دعا میں ان تمام گروہوں کے فضل اور انعام کو مانگا گیا ہے۔ان لوگوں کی راہ سے بچا ، جن پر تیرا غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔غرض یہ مختصر طور پر سورہ فاتحہ کا ترجمہ ہے۔اسی طرح پر سمجھ سمجھ کر ساری نماز کا ترجمہ پڑھ لو اور پھر اسی مطلب کو سمجھ کر نماز پڑھو۔طرح طرح کے حرف رٹ لینے سے کچھ فائدہ نہیں۔یہ یقینا سمجھو کہ آدمی میں سچی تو حید آہی نہیں سکتی ، جب تک وہ نماز کو طوطے کی طرح پڑھتا ہے۔روح پر وہ اثر نہیں پڑتا اور ٹھو کر نہیں لگتی جو اس کو کمال کے درجہ تک پہنچاتی ہے۔عقیدہ بھی یہی رکھو کہ خدا۔تعالیٰ کا کوئی ثانی اور بد نہیں ہے اور اپنے عمل سے بھی یہی ثابت کر کے دکھاؤ۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 192-191 مطبوعہ 2010ء) ”خدا تعالیٰ سے مانگنے کے واسطے ادب کا ہونا ضروری ہے اور عقلمند جب کوئی شئے بادشاہ سے طلب کرتے ہیں تو ہمیشہ ادب کو مد نظر رکھتے ہیں۔اسی لئے سورۃ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے کہ کس طرح مانگا جاوے اور اس میں سکھایا ہے کہ الْحَمْدُ للهِ رَبّ العلمين - یعنی سب تعریف خدا کو ہی ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔الرّحمٰنِ 76