حقیقتِ نماز — Page 117
حقیقت نماز کوشش کرو۔نما ز نعمتوں کی جان ہے۔اللہ تعالیٰ کے فیض راسی نماز کے ذریعہ سے آتے ہیں۔سو اُس کو سنوار کر ادا کرو تا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کے وارث بنو “ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 103 مطبوعہ 2010ء) ”نماز جو کہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اُسے محفوظ نہ رکھے گا تب تک وہ سچی نماز ہر گز نہ ہوگی۔نماز کے معنے ٹکریں مار لینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہر گز نہیں۔نماز وہ شئے ہے جسے دل بھی محسوس کرے کہ روح پگھل کر خوف ناک حالت میں آستانہ الوہیت پر گر پڑے۔جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رقت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور تفرع سے مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دُور ہوں۔اسی قسم کی نما ز بابرکت ہوتی ہے اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یادن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفس امارہ کی شوخی کم ہوگئی ہے۔جیسے اثر د ہا میں ایک سکیم قاتل ہے۔اسی طرح نفس اٹارہ میں بھی سکیم قاتل ہوتا ہے اور جس نے اُسے پیدا کیا اُسی کے پاس اُس کا علاج 66 ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 96 مطبوعہ 2010ء) ایک صاحب نے اُٹھ کر عرض کی کہ جب تک حرام خوری وغیرہ نہ چھوڑے تب تک نماز کیا لذت دے اور کیسے پاک کرے۔حضرت اقدس نے فرمایا: "إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيّات ( ہود ۱۱۵ ) بھلا جو اؤل ہی پاک ہو کر آیا اُسے پھر نماز کیا پاک کرے گی۔117