حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 116 of 148

حقیقتِ نماز — Page 116

حقیقت نماز طرح طرح کے طوق اور قسم قسم کے زنجیر انسان کی گردن میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بہتیرا چاہتا ہے کہ یہ دور ہو جاویں پر وہ دور نہیں ہوتے۔) بہتیرے لوگ اس پر گواہ ہیں کہ بارہا یہ جوش طبیعتوں میں پیدا ہوتا ہے کہ فلاں گناہ دور ہو جاوے جس میں وہ مبتلا ہیں لیکن ہزار کوشش کریں دور نہیں ہوتا۔باوجود یکہ نفس لوامہ ملامت کرتا ہے لیکن پھر بھی لغزش ہو جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ گناہ سے پاک کرنا خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے۔اپنی طاقت سے کوئی نہیں ہوسکتا۔ہاں یہ سچ ہے کہ اس کیلئے سعی کرناضروری امر ہے۔غرض وہ اندر جو گناہوں سے بھرا ہوا ہے اور جو خدا تعالیٰ کی معرفت اور قرب سے دور جا پڑا ہے اس کو پاک کرنے اور دور سے قریب کرنے کے لئے نماز ہے۔اس ذریعہ سے ان بدیوں کو دور کیا جاتا ہے اور اس کی بجائے پاک جذبات بھر دیے جاتے ہیں۔یہی سیر ہے جو کہا گیا ہے کہ نما ز بدیوں کو دور کرتی ہے یا نماز فحشاء یا منکر سے روکتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحه 93-92 مطبوعہ 2010ء) صلوۃ تزکیۂ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی مقلب کرتا ہے۔تزکیۂ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جائے اور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ562-561 مطبوعہ 2010ء) نماز بھی گناہوں سے بچنے کا ایک آلہ ہے۔نماز کی یہ صفت ہے کہ انسان کو گناہ اور بدکاری سے ہٹا دیتی ہے۔سو تم ویسی نماز کی تلاش کرو اور اپنی نماز کوایسی بنانے کی 116