حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 118 of 148

حقیقتِ نماز — Page 118

حقیقت نماز حدیث میں ہے کہ تم سب مردہ ہومگر جسے خدا زندہ کرے۔تم سب بھو کے ہومگر جسے خدا کھلاوے۔الخ۔ایک طبیب کے پاس اگر انسان اول ہی صاف ستھرا اور مرض سے اچھا ہو کر آوے تو اُس نے طبابت کیا کرنی ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی غفوریت کیسے کام کرے۔بندوں نے گناہ کرنے ہی ہیں تو اُس نے بخشنے ہی ہیں۔ہاں ایک بات ضرور ہے کہ وہ گناہ نہ کریں جس میں سرکشی ہو ورنہ دوسرے گناہ جو انسان سے سرزد ہوتے ہیں اگر ان سے بار بار خدا سے بذریعہ دعا تزکیہ چاہے گا تو اُسے قوت ملے گی۔بلا قوت اللہ تعالیٰ کے ہر گز ممکن نہیں ہے کہ اُس کا تزکیہ نفس ہو اور اگر ایسی عادت رکھے کہ جو کچھ نفس نے چاہا اُس وقت کر لیا تو اسے کوئی قوت نہیں ملے گی۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 657 مطبوعہ 2010ء) نما ز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بدعملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے۔مگر۔۔۔اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں لگا نہ رہے۔اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہوسکتا۔اس لئے چاہئے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو۔“ 66 ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 403 مطبوعہ 2010ء) 118