ہماری کہانی — Page 97
92 آپا رابعہ کا مکان بھی قریب تھا۔اس گھر کے بڑے داماد یونس عثمان صاحب کے بیٹے عبد الکریم فرعون صفت انسان تھے۔ان کو میرا اور آپا رابعہ کا سامنا خاندانی تقریبات اور تہواروں پر کرتا پڑتا جس سے وہ بر افروختہ ہو جاتے۔باقی افرا نے بڑا پیار دیا۔میری ہم عمر لڑکیاں سہیلیاں مل جل کر بڑا اچھا وقت گزار نہیں۔بمبئی میں سہنی مون کا زمانہ زیادہ تر سیر و تفریح میں گزرا۔ہر خوبصورت جگہ گئے مجھے خاص طور پر وہاں کا پھولوں کا زیور بہت یاد ہے۔ہلکی ہلکی بارش میں بھی سیر کو نکل جاتے۔واٹر پروف کوٹ پہن لیتے۔نہ گرمی محسوس ہوتی تھی نہ بارش ہمیں روکتی تھی۔نوری بھیا کی بیٹیوں کے ساتھ بیڈ منٹن اور کیرم بورڈ کھیلا جاتا۔ایک دوسرے کو نٹنگ وغیرہ کے ڈیزائن بنائے جاتے۔میری رخصتی کے بعد امی پر ریحانہ اور عارف کی تعلیم کی ذمہ داری تھی۔دونوں کو اچھے معیار کے انگلش میڈیم اسکول میں ڈالا ہوا تھا۔آپ زکیہ نفسیاتی مریضہ ہوگئی تھیں۔سانس کی تکلیف تو تھی ہی ان کے علاج معالجے کا خرچ بھی تھا۔اب اچار چینی کی فروخت سے ملنے والی رقم سے گزارا نہیں تھا ہم مل جبل کر جو کام مشکل سے کرتے تھے امی کی اکیلی جان کے لئے ناممکن ہو گیا تو امی نے وہ کام بند کر کے ساڑھیوں کے بارڈر پر زری نقے کا کام شروع کر دیا۔ایک بارڈر بنانے پر تین مہینے لگ جاتے مگر رقم بہتر مل جاتی۔نہ جانے کس کس نے اس عظیم عورت کے ہاتھوں کے لگے ایک ایک ٹانکے کے ساتھ نیکی ہوئی دعاؤں والے بارڈر کی ساڑھیاں پہنی ہوں گی جو میری ماں کی بینائی کا عرق تھیں مگر بچوں کو تعلیم کی روشنی سے منور کر رہی تھیں۔ان دنوں بھی عظیم بھیا اور باجی عائشہ ہماری اور امی کی خبر گیری کرتے۔صاحب حیثیت تھے۔اُن کے آنے سے ہم عزت افزائی محسوس کرتے۔ان کی ایک ہی بیٹی صبیحہ