ہماری کہانی

by Other Authors

Page 98 of 124

ہماری کہانی — Page 98

۹۸ عارف سے دو سال چھوٹی تھی۔۔جب بر صغیر کی تقسیم ہوئی ہمارا گھرانہ پاکستان کے حق میں جذباتی شدت سے محبت کرتا ہم امی کے گھر جمع ہوتے۔آپا رابعہ اپنے دو بچوں کے ساتھ اور میرا اس وقت ایک بیٹا ممتاز تھا۔ہم سکول کے بچوں کی طرح پر جوش ہوتے۔اپنی دنوں امتی شدید بیمار ہو گئیں اور بیماری بھی کیا بریسٹ کینسر میری بہادر ماں نے آپریشن اور بعد کا شعاعوں سے علاج بڑے صبر اور برداشت سے کرایا۔اپنی ذمہ داریوں کے احساس سے وہ کافی نڈھال ہو جاتیں اور خدا تعالیٰ سے شفا مانگتیں۔یہ سال بھی عجیب کشمکش کے تھے۔جگہ جگہ فسادات کی خبریں ، ہندو مسلم قتل و غارت ، جائدا دیں لوٹنا ، آگ لگانا ہر وقت سننے میں آتا۔جیس حویلی میں ہم رہتے تھے سب اسی میں جمع ہونے لگے۔ایک ایک کمرہ سب کو مل گیا۔مگر ساتھ ہی ساتھ پاکستان منتقل ہونے اور لڑکیوں کی شادیوں کا سلسلہ جاری رہا شاہ کا سال تھا جب آدم جی جھوٹ مل میں آگ لگی تعظیم بھیا اور باجی دریا کے راستے نکل کر بمشکل امی کے گھر پہنچے اور فور آڈھا کہ پاکستان چلے گئے۔میں کلکتہ میں امی کے مکان میں منتقل ہو گئی۔بڑے بھیا اور داؤد بھیا پچٹا گانگ چلے گئے۔بے وطنی کی مصیبتیں ایک نہیں ہوتیں اور ایسی بھی نہیں ہوتیں جن کو بیان کیا جا سکے اور پھر مشکلات کے ذکر سے حاصل بھی کیا ہے صرف اتنا بتا دیتی ہوں کہ ریحانہ کا جمع جوڑا جہیز جو امتی سینے سے لگا کر لے گئی تھیں ایک رات چوروں نے بے ہوشی کی دوا کھلا کر سارا لوٹ لیا۔پے در پے صدمات اور صحت کی کمزوری کی وجہ سے امی پر دوبارہ کینسر کا حملہ ہو گیا۔نہیں ڈھا کہ پہنچی ریجانہ میٹرک کا امتحان دے رہی تھی۔امی کے پاؤں کے پاس لالٹین کی روشنی نہیں پڑھتی اور امی کی ہر آواز پر ان کی خدمت کرتی۔آپا زکیہ کی بیماری عروج پر تھی عارف