ہماری کہانی

by Other Authors

Page 96 of 124

ہماری کہانی — Page 96

94 کروائی ہوئی بڑی سی مسجد تھی۔کنواں بھی تھا جس کے اردگر دبارہ غسل خانے اور مسلمانوں کے سامنے کپڑے بدلنے کے کمرے تھے۔اس مسجد میں جمعرات کو خاص مجمع ہوتا۔سیمین قوم کے سب لوگ جمع ہوتے ہم اس وقت گھر پر ہی رہتے بور میں ماموں نے بہت دفعہ خواہش کی کہ گھر خالی ہے آکر رہو مگر امتی کو مناسب نہیں لگا۔ایک تو عقیدے کا فرق دوسرے وہ لڑکیوں کو تعلیم دلانا چاہتی تھیں ئیں لکھتی رہی ہوں کہ ہمارا خاندان کٹر مخالف تھا۔صرف ایک ہادی ماموں کسی حد تک ساتھ دے رہے تھے اور بڑی اماں نے پیار دیا تھا۔میرے چوتھے ماموں داؤد اور ان کی بیوی مجھے بہت چاہتے تھے۔ان کی خواہش پر میری شادی ان کے دیور، میر سے ماموں زاد، ہادی ماموں کے چھوٹے بھائی نور محمد صاحب سے طے ہوئی۔بمبئی سے محمد صاحب کے بڑے بھائی داؤد بھیا اور مریم ہیں آئیں۔میری امی اپنے ارحم الراحمین خدا کی انتہائی شکر گزار تھیں۔یعنیب سے سامان اس کو کہتے ہیں۔پھر امتی اپنی ددھیالی رشتہ داری کی وجہ سے بھی خوش تھیں۔بڑی محنت و مشقت کے جوڑے ہوئے پیسے سے جہیز اور زیور کا ایک سیٹ تیار ہوا۔مجھے ابھی بھی امی کا وہ ڈیہ یاد ہے جس میں وہ بچت کے پیسے جوڑ جوڑ کر رکھتیں۔امتی کے پاس جاوے کے زمانے میں ہیرے کے کنگن کا بڑا خوبصورت ڈبہ تھا۔ب کنگن نہ رہا تو یہ ڈبہ بطور غلہ استعمال ہونے لگا۔پہلے بابا اس میں چندے کے پیسے ڈالتے تھے۔پھر امتی نے ڈالنے شروع کئے۔بابا کی زندگی میں آپا رابعہ نے خواب میں دیکھا تھا کہ اس ڈبے میں سے سونے چاندی کا سیٹ نکل رہا ہے۔ہوا بھی یہی کہ امتی جمع جوڑا نکالتیں اور ہمارے لئے کچھ بنادیتیں۔اللہ پاک انہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین۔۔میں میں رخصت ہو کر الیاس صاحب کی محل نما حویلی میں گئی۔