ہماری کہانی

by Other Authors

Page 69 of 124

ہماری کہانی — Page 69

49 میں بھاگ کر بابا سے لپٹ گئی۔بابا ایک کمرے میں ہمیں قادیان کے احوال سنا رہے تھے تو دوسرے کمرے میں نانا اپنا بوریا بستر سمیٹ رہے تھے۔بمشکل واسطے دے کر انہیں روکا کہ شدید بیماری میں نہ جائیں۔رُک گئے اور یہ نظارہ دیکھنے لگے کہ کس طرح ایک شخص خدا کے حضور رونا اور گڑ گڑاتا ہے۔دونوں کا کمرہ ایک ہی تھا۔اس کمرے میں احمدیت کی تبلیغ ہوتی۔زور دار پر دلائل گفتگو ہوتی اور احباب بہت متاثر ہو کر جاتے۔ایک نوجوان لڑکا جو دُور کا رشتہ دار بھی تھا سماعت و گویائی سے محروم تھا۔رنگون میں گونگوں پیروں کے سکول میں تعلیم پائی تھی اور الیکٹریکل انجینئر نگ تک تعلیم پائی تھی۔کتب لے کر جاتا اور جہاں کوئی سوال ذہن میں آنا آکر بابا سے دریافت کرتا۔اس کا قلبی اطمینان ہو گیا اور اس نے احمدیت قبول کر لی۔کافر قرار دینے والے کے لئے یہ نظارے ہی کافی جواب تھے میمن جماعت کے لوگ بھی کبھی کبھی آس پاس میں خیریت پوچھنے آتے کہ کب ہم بالکل بے بس ہو کر ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیں گے۔بابا نے کچھ حصص (SHARES) خرید سے ہوئے تھے ان سے معمولی سی رقم مل رہی تھی مگر بابا کی بیماری بڑھ جانے کی وجہ سے وقت ہوتی تھی۔وہ کسمپرسی کے دن بڑی دعاؤں میں گذرے۔بابا ایک ایک کا نام لے کر دعائیں کرتے۔یہ وہ خزانے تھے جو وہ ہمارے نام خدا تعالیٰ کے بنک میں جمع کروا رہے تھے اس وقت بعض باتیں ہماری سمجھ سے بالا تر تھیں۔اب بابا کے خطوط پڑھتی ہوں تو حیران رہ جاتی ہوں۔کس قسم کا خدا تعالیٰ پر تو کل تھا کہ کبھی مایوسی قریب نہیں آئی تھی اور خدا تعالیٰ کا سلوک کس قدر پیار بھرا تھا۔بیوی کے نام نجی خطوط میں بھی اسی محبوب از لی و ابدی سے زندہ تعلق پیدا کرنے کا ذکر رہتا۔