ہماری کہانی

by Other Authors

Page 68 of 124

ہماری کہانی — Page 68

۶۸ بڑھ کر چودہ سو برس کی اللہ اور اس کے رسول کی پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھ کر تصدیق کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اور قرآن پاک کا اور زیادہ مومن مصدق ہوتا ہے۔میں مرتد نہیں ہوا بلکہ آپ جو کچھ مجھ سے کروانا چاہتے ہیں وہ مرتد بنانا چاہتے ہیں۔نکاح کسی کا بھی نہیں ٹوٹا۔نہ میرا نہ میری بہن کا نہ میری بیٹی کا نہ طلاق ہوئی ہے نکاح نام ہے ایجاب و قبول کا مہر کا اور وہ صرف شوہر کی یا بیوی کی دو ہیں سے کسی ایک کی نارضامندی سے طلاق لی یادی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ دنیا کے دس کروڑ مولوی بھی چاہیں تو قتہ سے لکھا کریں نہ نکاح ٹوٹتا ہے نہ طلاق ہوتی ہے اور شوہر اور بیوی دونوں راضی ہیں۔میری اس تحریر کو خوب غور سے پڑھیئے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وہ کچھ دکھا دے جو اس نے مجھے دکھایا ہے۔آمین مهاجر فی سبیل اللہ گناہ گار عبد الستار بابا ۳۰ جون کو قادیان سے روانہ ہو کر پہلی جولائی 1915ء کو بمبئی پہنچے۔بھٹی سکندر آباد ہوتے ہوئے ۳۱ - اگست کو کلکتہ پہنچے۔اگرچہ ہمیں پہلے سے اطلاع تھی تاہم ایک طویل صبر آزما جدائی کے بعد ایک دن اچانک بابا کی آواز کان میں آئی۔رفیعہ۔رفیعہ۔بابا آگئے۔بابا آگئے۔ایک خوشی کی لہر کی طرح گھر میں یہ خبر پھیل گئی۔وہ دن آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ان کی شکل پُر وقار اور پر نور تھی۔وہ قادیان رہ کر آئے تھے حضرت مسیح موعود کے مزار پر دعا کرے کے آئے تھے۔خلیفہ وقت سے شرف ملاقات حاصل کر کے کوٹے تھے۔ایسے بے نظیر انعام لے کر آئے تھے جن کی قدر آج بھی پہلے سے زیادہ معلوم ہوتی ہے۔