ہماری کہانی — Page 119
۱۱۹ پہلے مجھے ایک چابی دے کر کہتی ہیں یہ منصور کی دوا پہنچ جائے گی یہ واپسی پر لجند سی عورتیں رشک سے میری طرف دیکھ کر کہتی ہیں کیسی خوش نصیبی ہے تمہاری تمہارے علاوہ کسی کی طرف توجہ ہی نہیں دی چھوٹی آپا نے ہمیں کہتی ہوں " میرا جہاد بھی تو بڑا ہے۔ایک طرف غیر احمدی اور ایک طرف احمدیت برابر کا تعلق ہے " یہ خواب میں بھول گئی تھی مگر جب تختے پر محمد صاحب کا جنازہ رکھا گیا تو مجھے یہ سوچ کر تسلی ہوئی کہ اللہ پاک نے ایک طرح میری دلجوئی کی تھی اور مجھے یہ اطمینان دلایا تھا کہ یہ اس کا فیصلہ ہے جس کی رضا پر راضی رہنا میرا ایمان ہے۔ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو شوہر کی چھتری کے نیچے زندگی گزار نے والی سب بہنیں جانتی ہوں گی کہ راستہ سے ناواقف تھی مگر گھر کے باہر کے کاموں کی ذمہ داری آپڑی تھی۔گھر سے نکلی تو سب سے پہلے قبرستان گئی۔شوہر کی قبر پر دعا کی پھر راستہ پوچھتے پوچھتے احمدیہ ہال پہنچی۔آپا سلیمہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ ضلع کراچی سے عاجزانہ درخواست کی کہ مجھے لجنہ کا کوئی کام دیں نہیں دین کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔مجھے شعبہ اشاعت میں سیلز کی ڈیوٹی مل گئی۔ہر پیر کو ہاں جاتی ہوں اور کام کرتی ہوں 19ء کے شروع میں خواب دیکھا کہ بابا محترم قبر میں اٹھ کر بیٹھے ہیں۔میں کہتی ہوں ! بابا آپ کی تو حضرت مسیح موعود سے ملاقات ہوتی ہو گی۔آپ میرا اسلام انہیں پہنچا دیجئے " بابانے جو جواب دیا میں سمجھی نہیں۔اور خواب کی تعبیر بھی نہیں سمجھی۔پھر بابا کے حالات لکھنے شروع کئے تو تعبیر سمجھ آئی کہ قبر میں اٹھ کر بیٹھنا۔اُن کا ذکر جاری ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ کام لینا تھا۔مجھے کوئی قابلیت نہیں ہے مگر خدا تعالیٰ میری مار کر رہا ہے اور یہ سطور لکھ رہی ہوں۔مقصد صرف اپنے والدین کے لئے دعا