ہماری کہانی — Page 118
۱۱۸ ہاتھ تھا۔اتنے میں ممتاز داخل ہوا ہسپتال لے کر گئے گھبراہٹ کے عالم میں خُدا تعالیٰ کو یاد کیا اور فریاد کی کہ تو ہی ہمیشہ میرا سہارا رہا ہے اس عارضی سہارے کو قائم رکھنا مگر قضاء و قدر کے آگے میری دعائیں قبول نہ ہوئیں۔تقدیر مبرم اپنا کام کر گئی انا للهِ وَرَانَا إِلَيْهِ رَاجِعُون جماعت اور غیر از جماعت میمن قوم کے بہت لوگ آئے۔ان کی شرافت کی وجہ سے بہت لوگ ان کے گرویدہ تھے معصوم زندگی گزاری یعقیدے کے اختلاف کے باوجود ہر طرح کی معاونت دی پھر جب احمدی ہو گئے تو ہمیشہ تعاون کیا۔لجنہ کا اجلاس ہو یا جلسہ خلیفہ المسح الثالت کے گیسٹ ہاؤس تشریف لانے پر ڈیوٹی ہوتی۔لانے لے جانے کا سب کام بشا سے کیا بعض دفعہ لجنہ ہاں لے کر جاتے تو اس وقت تک نیچے بیٹھے رہتے جب تک میں فارغ نہ ہو لیتی۔ان کے رشتہ داروں نے ساتھ چھوڑا تھا جو اللہ پاک نے کیسے کیسے بھائی دیئے۔حضرت میاں ظفر احمد صاحب اور شریف پانی صاحب سے بھائیوں جیسا پیار ملا حضرت خلیفہ المسیح الثالث بڑی دلجوئی کرتے اور بہت پیار کا سلوک کرتے۔اللہ پاک نسلی کے سامان یوں بھی کرتا کہ خوابوں میں پیاری ہستیاں ملتیں۔اللہ پاک نے مجھے محمد صاحب کا اچھا انجام بھی دکھایا ہے۔ان کی وفات سے پہلے کی بات ہے خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحب میرے گھر تشریف لا رہے ہیں۔کھڑکی سے گزر کر ڈرائنگ روم میں چلے گئے ہیں اور محمد صاحب کی کرسی پر تشریف فرما ہیں خواب میں ہی اپنی خوش قسمتی کا سوچ کر خوش ہوتی ہوں۔پھر نظارہ بدل جاتا ہے۔کھانے کے بین کی جگہ خالی تختہ رکھا ہے۔کمرہ بھی خالی ہے۔کچھ لجنہ کی عورتیں ہیں جن میں ریحانہ بھی ہے۔اتنے میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ تشریف لاتی ہیں اور میرا منہ پکڑ کر خوب چومتی ہیں پھر باہر جاتی ہیں اور گاڑی میں بیٹھنے سے