ہماری کہانی

by Other Authors

Page 103 of 124

ہماری کہانی — Page 103

۱۰۳ خلیفہ المسیح الثانی کا کلام ہے۔پھر آپا سے کہا مجھے امام مہدی کی تصویر تو دکھاؤ۔آپا خوفزدہ ہو گئیں کہ پھر گالیاں دیں گے مگر ان کی حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی جب تصویر دیکھ کر انہوں نے کہا یہی تو وہ بزرگ ہیں جن کو خواب میں دیکھا تھا۔اور زار و قطار رونے لگے۔اس کے بعد گالیاں دینا ختم کر دیا۔آپ رابعہ کی دعائیں سنی گئیں جمعہ پر بھی جانے لگے۔ایک دن جھیوٹ بروکر کی دکان پر بیٹھے تھے کہ ریڈیو پر اعلان ہوا جماعت احمدیہ کے سربراہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد پر چھری سے قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔وہیں سے انجمن دوڑے کہ کہیں مصلح موعود کی بیعت سے محروم نہ ہو جاؤں اور اس طرح ایک پتھر دل آپا رابعہ کے آنسوؤں سے موم ہوا الحمد للہ موم ہوا تو ایسا ریشم کا سانرم کہ ہر وقت دین کا پر چار۔نظم اچھی کہتے تھے اور خوب سناتے تھے۔آپا رابعہ نے ڈھاکہ میں احمد ہی بچوں کی تعلیم کے لئے کوشش کر کے ایک سکول شروع کیا اء میں اس سکول کی تعلیم کی ابتدا ہوئی۔آپا رابعہ نے لجنہ کی بھی بہت خدمت کی۔دس سال صدر رہیں۔اس کے علاوہ بڑی اماں کے خاندان کو مسلسل دعوت الی اللہ دیتی رہیں۔ایک دفعہ تو یہ بھی ہوا کہ پڑوس کی مخالف عورتیں بھی شامل ہوگئیں اور یات گستاخی تک پہنچ گئی خرافات بکنے کے بعد ایک عورت نے کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے کہا " اسے خدا اگر مہدی سچے ہیں تو اس گھر کی چھت گر جائے “ ستائیسویں دن محمد بھائی کو صبح ہارٹ اٹیک ہوا۔اور آنا فانا ختم ہو گئے۔سب لوگوں نے تسلیم کیا کہ واقعی چھت گر گئی مگر ہدایت تو اللہ کے حکم سے آتی ہے۔آپا زکیہ کا کہنا تھا کہ وہ بابا کی زندگی میں ہی احمدی ہو گئی تھیں۔کتابیں اور الفضل انہیں دکانوں سے منگوا کر پڑھنی تھیں جہاں سے بابا منگواتے تھے۔ریحانہ اور آپا نہ کیہ کو مولوی سلیم صاحب