ہماری کہانی

by Other Authors

Page 104 of 124

ہماری کہانی — Page 104

۱۰۴ کے گھر لے گئی اور اس طرح ہم پانچوں بہنیں با قاعدہ طور پر احمدیت میں داخیل ہو گئیں۔الحمد للہ علی ذالک۔عارف اکلوتا بھائی اس وقت چودہ سال کا تھا زیرتعلیم تعلم تھا۔آپ از کنید کی پریشانی سب کو لاحق رہتی۔بڑی صابرٹ کر بہن تھیں۔احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے ہی بابا کے احمدی ہونے سے ہم ایک طرح پیدائشی احمدی تھے اور وہ جذبہ اور قوت جو احمدیوں کا طرہ امتیاز ہے ہم میں بھی تھی مگر حالات کی وجہ سے ہم خاموش احمدی تھے۔اب جب علی الاعلان احمدی ہوئے تو دل میں کروٹیں لیتا یہ شوق بڑھنے لگا کہ ہم بھی احمدیت کی ترقی کے لئے کام کریں۔ایک تو خود بخود لوگ ہمارے وجود سے متاثر ہونے لگے پھر اللہ پاک نے معاشی لحاظ سے بھی بہتر کر دیا اس طرح ہماری بات بھی سنی جانے لگی محمد صاحب کے بھائی عبد اللہ بھیا کا کھلنا پورٹ پر منتقل ہونے کے بعد کاروبار خوب ترقی کرنے لگا۔ہم عبداللہ بھیا والے مکان میں چلے گئے۔یہاں معمول تھا کہ اتوار کے اتوار سب رشتہ دار خضر پور میں جمع ہوتے جن میں شدید معاند عبدالکریم اور ان کی بیگم تھے۔ایک دن کسی اعتراض کے جواب میں قرآن پاک منگوا کر حوالہ دیا تو بیگم عبد الکریم نے قرآن پاک اٹھا کر میز پر پٹخ دیا کہ یہ تو تمہارا قرآن مجید ہے اس پر بہت غیرت آئی خون کھول گیا مگر اندر ہی اندر خدا تعالیٰ نے طاقت دی اور میں نے بڑے ضبط او تحمل سے ، مگر بڑی قطعیت سے احمدیت کے حق میں دلائل دیئے۔وہ سب لاجواب ہو گئے اور میرے میاں محمد صاحب بھی خوش ہوئے۔اب ان کا وہ حربہ کام آیا کہ محمد صاحب سے میرا نکاح ختم ہو گیا۔مگر محمد صاحب نے پرواہ نہ کی اور کچھ نہ کچھ احمدیت کا مطالعہ شروع کیا۔عبدالکریم صاحب نے مخالفت کو گندا رخ دیا اور حضرت مسیح موعود کی ذات پر حملے کرنے لگے۔ان کی زندگی کو بھی اور وفات کو بھی نشانہ بنایا۔ایک روزہ دل ایسا جلا کہ منہ سے نکلا۔