ہماری کہانی — Page 102
١٠٢ جاتے اور حضرت مسیح موعود کو گالیاں دیتے جس سے ہنگامہ کھڑا ہو جاتا۔وہ گانے سننے کے شوقین اور آپا کو سخت نفرت۔اتنا تھا کہ نماز کے پابند تھے اور عورتوں کی بے تحاش آزادی کو بھی ناپسند کرتے تھے اس طرح اندر اندر سے آپ کی باتیں مبیند بھی تھیں۔آپا ہر وقت موقع محل دیکھ کر تبلیغ کرتیں۔امنی جان کی وفات سے ہمارا اکلوتا بھائی عارف تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔انٹر تک تعلیم حاصل کر کے پاکستان ریڈیو ہاؤس میں ملازمت کر لی۔وہیں ایک کمرے میں رہائش کا انتظام ہوگیا۔ذکیہ آپا کو ہم نے نواب پور ڈھاکہ میں ایک اچھے خاندان کے ساتھ Paying guest رکھا۔جس گھر میں عارف کو کمرہ ملا وہ ایک احمدی مختار صاحب کی ملکیت تھا۔وہاں ایک اور احمدی لڑ کا خورشید سین بھی رہتا تھا۔ایک رفیق میسج شیخ صاحب بھی رہتے تھے جو عارف کے لئے احمدیت کی تعلیم کا ذریعہ بنے رہے۔خورشید حسین صاحب کے ایک بھائی ہمار خاندان میں واحد احمدی ہوئے۔پھر خورشید حسین صاحب احمدی ہوئے۔خورشید حسین صاحب سے بعد میں ریحانہ کی شادی ہوئی۔آپا جو نشان پورا ہوتا خوب کھول کر بیان کرتیں اور اللہ پاک سے ڈرائیں۔زمانہ کی حالت اور مہدی کی ضرورت بھی زیر بحث رہتی۔اللہ پاک نے آیا رابعہ کی مدد کی۔سیلاب آیا اور گھر نگ پانی آگیا تو دل پر خوف طاری ہوگیا کبھی کبھی جمعے پر جانے لگے۔ایک رات خواب میں دیکھا۔ایک بزرگ ہیں۔ہاتھ میں چھڑی ہے اور ایک نظم پڑھ رہے ہیں جس کا شعر ہے " باب رحمت خود بخود پھر تم پہ وا ہو جائے گا جب تمہارا قادر مطلق خدا ہو جائے گا صبح اُٹھے تو شعر دہرا رہے تھے حالانکہ انہیں علم بھی نہیں تھا کہ یہ حضرت