ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 58 of 255

ہمارا خدا — Page 58

طرف محض اشارہ ہی نہیں پاتا بلکہ واقعی خدا کو دیکھ لیتا اور پالیتا ہے۔بلکہ یہاں صرف عقلی دلائل کا ذکر ہے جن کی پہنچ ” ہونا چاہئے“ والے ایمان سے آگے نہیں اور اس قسم کے دلائل میں واقعی وہ دلیل جو میں اب بیان کرنا چاہتا ہوں ایک نہایت ہی روشن دلیل ہے اور یہ زیادہ تر اسی دلیل کی برکت ہے کہ باوجود اس کے کہ اس زمانہ میں دنیا خدا تعالیٰ کے عرفان سے گویا کلیتہ تاریکی میں ہے وہ باری تعالیٰ کے وجود سے بالکل منکر ہو جانے سے بھی بچی ہوئی ہے اور اسے اس معاملہ میں انکار کی طرف قدم اٹھانے کی جرات نہیں ہوتی اور یہی وہ ابتدائی دلیل ہے جو ہمیشہ الہی کتب میں بھی غافل انسانوں کو بیدار کرنے کے لئے استعمال ہوتی رہی ہے اور قرآن شریف نے بھی اسے کثرت کے ساتھ بار بار استعمال کیا ہے۔یہ دلیل مسبب (Effect) سے سبب (Cause) کی طرف جانے کی دلیل ہے اور اگر علمی طور پر دیکھا جاوے تو یہ دلیل در اصل دو دلیلوں کا مجموعہ ہے۔ایک دلیل تو وہ عام معروف دلیل ہے جس میں فی الجملہ طور پر مخلوق کے وجود سے خالق کے وجود پر استدلال کیا جاتا ہے اور یہ دلیل سادہ ہونے کی وجہ سے عامۃ الناس کو زیادہ اپیل کرتی ہے۔دوسری دلیل وہ ہے جس میں اس عالم دنیوی کے حالات اور نظام عالم کا مطالعہ کر کے اس عالم کی پیدا کرنے والی اور اس نظام کی جاری کرنے اور قائم رکھنے والی ہستی کے وجود پر دلیل پکڑی جاتی ہے اور یہ دلیل آگے خود کئی حصوں میں منقسم ہو جاتی ہے مگر اس جگہ اختصار وسہولت کی غرض سے ان دو دلیلوں کو ایک ہی مخلوط دلیل کی صورت میں بیان کیا جاوے گا۔پہلا حصہ دلیل کا جو مخلوق کے وجود سے خالق کے وجود کی طرف جانے سے تعلق رکھتا ہے اپنی ظاہری صورت میں بہت سادہ ہے۔مثلاً میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت جب کہ میں منصوری پہاڑ پر ایک دوست کے گھر میں مہمان کے طور پر ٹھہرا ہوا اس مضمون کا 58