ہمارا خدا — Page 59
یہ حصہ لکھ رہا ہوں میرے سامنے میز پر بہت سی چیز میں رکھی ہیں اور ہر چیز اپنی ہستی سے مجھے ایک سبق دے رہی ہے۔میرے سامنے کاغذ ہے۔میرے ہاتھ میں قلم ہے۔اس قلم میں روشنائی ہے۔روشنائی کو خشک کرنے کے لئے میرے کاغذ کے نیچے جاذب ہے اور کاغذوں کو ادھر اُدھر اڑنے سے بچانے کے لئے اُن پر شیشے کا ایک خوبصورت ٹکڑا رکھا ہے جسے پیپر ویٹ کہتے ہیں۔میرے بیٹھنے کے لئے میرے نیچے کرسی ہے اور سہارا لینے کے لئے میرے سامنے میز ہے۔میز کو صاف رکھنے اور خوشنما بنانے کے لئے میز پر ایک میز پوش ہے اور میز پر ایک طرف کچھ کتابیں رکھی ہیں جنہیں میں بوقت ضرورت مطالعہ کرتا ہوں۔یہ سب چیزیں اس وقت میرے سامنے ہیں اور محض اپنے موجود ہونے سے میرے اندر یہ یقین پیدا کر رہی ہیں کہ انہیں کسی بنانے والے نے بنایا ہے۔پھر میں کسی کمرے کے اندر ہوں اس کمرے کی چاروں طرف دیوار میں ہیں۔اُن کے او پر چھت ہے۔کمرے میں کچھ کھڑکیاں اور دروازے ہیں جن پر پردے لٹک رہے ہیں۔کمرے کے فرش پر دری ہے اور دری پر ادھر اُدھر کچھ سامان رکھا ہے۔میں اِن چیزوں کو دیکھ رہا ہوں اور میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ یہ چیزیں خود بخود نہیں بلکہ کسی کاریگر کی محنت کا ثمرہ ہیں۔اگر کوئی شخص میرے پاس آئے اور مجھ سے یہ منوانا چاہے کہ یہ ساری چیزیں جو مجھے نظر آرہی ہیں انہیں کسی نے نہیں بنایا بلکہ یہ خود بخودہی اپنی موجودہ شکل میں ظاہر ہوگئی ہیں تو میں اس کی بات کو کبھی نہیں مانوں گا اور نہ کوئی اور شخص ماننے کو تیار ہو گا۔مگر افسوس اس دنیا میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جو ہم سے یہ بات منوانا چاہتے ہیں کہ یہ زمین، یہ آسمان، یہ حیوانات، یہ نباتات، یہ جمادات، یہ اجرام سماوی، یہ طبقات ارضی، یہ جسم انسانی کسی صانع کی صنعت کا ثمرہ نہیں بلکہ خود بخود ہمیشہ سے چلے آئے ہیں۔میں ان کی بات کو کس طرح مان لوں ؟ میرے سامنے اس وقت عرب کے ایک بدوی کا قول ہے جس سے کسی نے پوچھا تھا کہ تیرے پاس خدا کی 59