ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 57 of 255

ہمارا خدا — Page 57

دل کے آئینہ میں ہے یار ذرا گردن جھکائی دیکھ لی اس شاعر نے تو نہ معلوم کس خیال سے یہ شعر کہا ہوگا لیکن اس میں شک نہیں کہ خدا نے اپنی تصویر ہر انسان کے دل میں منقوش کر رکھی ہے مگر متکبر انسان اپنی گردن کو جھکانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔خدا نے ہر انسان کی فطرت کے اندر اپنے عشق کی چنگاری مرکوز کی ہے مگر کم ہیں جو اس آگ کو بجھنے سے بچاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود جس علیہ السلام فرماتے ہیں۔تو نے خود رُوحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک ہے شور محبت عاشقان زار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے تیرے کوچے میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا کائنات خلق اور نظام عالم کی دلیل اس کے بعد میں اس دلیل کو لیتا ہوں جو عقلی دلائل میں سے سب سے زیادہ معروف ہے بلکہ دراصل یہی ایک دلیل ہے جس پر دنیا کے بیشتر حصہ کے ایمان کا دار و مدار ہے اور ویسے بھی غور کیا جاوے تو درحقیقت جہاں تک انسان کی مجر د عقل کی پہنچ ہے اس سے زیادہ روشن اور سریع الاثر دلیل خیال میں نہیں آسکتی۔یادر ہے کہ یہاں ان دلائل و براہین کا ذکر نہیں جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں اور جن سے خدا تعالیٰ کا وجود حق الیقین کے طور پر ثابت ہو جاتا ہے اور جن کے ذریعہ سے انسان خدا کی 57