ہمارا خدا — Page 45
ہمیشہ کے لئے دہریت کے تاریک گڑھے میں گر جاتا ہے اور خُد اکو تلاش کرتا کرتا خدا کا منکر ہو بیٹھتا ہے اور اسی انکار کی حالت میں اُس پر موت آجاتی ہے کیونکہ جب وہ دیکھتا ہے کہ باوجود اس قدر کوشش اور سعی کے وہ خدا کو نہیں پاسکا اور زیادہ سے زیادہ اس خیال تک پہنچ سکا ہے کہ کوئی خُدا ہونا چاہئے تو آخر آہستہ آہستہ مایوسی اُس پر غلبہ پانا شروع کرتی ہے اور بالآخر وہ اپنی عقل کی ہدایت کو ایک دھو کہ خیال کر کے خدا تعالے کا منکر ہو جاتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال سمجھنی چاہئے جیسے کہ کوئی شخص کسی کمرے کے دروازہ کو اندر سے بند پائے اور اس سے وہ یہ استدلال کرے کہ اس کمرہ کے اندر ضرور کوئی شخص ہونا چاہئے ورنہ اس کا دروازہ خود بخود اندر سے بند نہیں ہوسکتا تھا لیکن وہ ایک بہت بڑا لمبا عرصہ اس دروازہ کے سامنے کھڑا رہے اور اس کو کھٹکھٹائے اور آواز میں دے اور شور کرے لیکن وہ دروازہ اُس کے لئے نہ کھولا جائے اور نہ ہی اُسے اندر سے کوئی آواز آئے تو آہستہ آہستہ اس کے دل میں شکوک پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے کہ ممکن ہے یونہی کسی نامعلوم بات کے نتیجہ میں یہ دروازہ اندر سے بند ہو گیا ہو یا یہ کہ بند کر نیوالا اندر ہی مر چکا ہو وغیرہ وغیرہ اور بالآخر ایک وقت اُس پر ایسا آئے گا کہ وہ بالکل مایوس ہو جائے گا اور اس یقین سے واپس لوٹ جائے گا کہ کمرہ کے اندر کوئی آدمی نہیں ہے۔پس خدا کے متعلق بھی اگر ” ہونا چاہئے والا ایمان ہے‘ والے ایمان کی طرف راہنمائی نہیں کرتا تو اس کا آخری نتیجہ بھی سوائے مایوسی اور دہریت کے اور کوئی نہیں۔اور جولوگ غور کا مادہ رکھتے ہیں اُن کے لئے یہ ناممکن ہے کہ اس مقام تک پہنچ کر رک جائیں۔وہ یا تو آگے قدم بڑھائیں گے اور یا کچھ عرصہ کے بعد مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے لیکن افسوس کہ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں ( بلکہ انہی لوگوں کی کثرت ہے ) کہ جن کی آنکھوں پر ایسا غفلت کا پردہ چھایا ہوتا ہے کہ وہ اس مقام تک پہنچ کر جو ہونا چاہئے“ کا مقام ہے یہ تسلی پا جاتے ہیں کہ ہم خدا تک پہنچ گئے ہیں اور جو کچھ ہم 45