ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 44 of 255

ہمارا خدا — Page 44

انسان قریب ہوتا جاتا ہے اس کا یہ منظر زیادہ صاف ہوتا جاتا ہے اور علم اور عرفان ترقی کرتے جاتے ہیں مگر اس قرب کی کوئی حد نہیں اور نہ اس علم و عرفان کی کوئی انتہا ہے کیونکہ خدا غیر محدود ہے اور غیر محدود کا عرفان بھی محدود نہیں ہوسکتا۔اسی لئے رَبِّ زِدْنِي عِلماً ( یعنی اے میرے رب ! میرے علم میں ترقی دے) کی دُعا جس طرح زید و بکر کے منہ سے نکلتی ہے اُسی طرح حضرت سرور کائنات خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے بھی نکلتی تھی جس کی زبان پر خدا نے یہ الفاظ جاری فرمائے کہ اَنَا سَيِّدُ وُلدِ ادَمَ وَلَا فَخْرَ ( یعنی میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں مگر میں اس کی وجہ سے تکبر نہیں کرتا ) اور جس کے متعلق خدا نے فرمایا کہ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنِي (یعنی ہمارا یہ بندہ ہم سے قریب ہوا اور اتنا قریب ہوا کہ گویا ہم میں نہاں ہو گیا ) اللهم صل علی محمد و بارک وسلم۔مگر افسوس کہ اکثر لوگ جب ایمان کے ابتدائی مرتبہ کو حاصل کرتے ہیں تو یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ بس ہم نے جو کچھ پانا تھا پالیا۔اور اس سے بھی زیادہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ دُنیا میں بیشتر حصہ ان لوگوں کا ہے جو اگر خدا تعالیٰ کے متعلق توجہ کرتے ہیں تو ” ہونا چاہئے“ کے مرتبہ سے آگے نہیں گذرتے اور صرف اسی مقام تک پہنچ کر یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے خُدا کو پالیا حالانکہ گو اس میں شک نہیں ہے کہ ” ہونا چاہئیے کا مرتبہ ” ہے" کے مرتبہ کے لئے بطور ایک زینہ کے ہے اور عالم روحانیت میں انسان کو ابتدائی بیداری اسی مقام میں پہنچ کر حاصل ہوتی ہے لیکن اگر اس مقام پر پہنچ کر انسان آگے قدم بڑھانے سے رک جائے اور اسی کو اپنا منتہی اور مقصود سمجھنے لگ جائے تو یہی حالت اُس کے واسطے نہایت خطرناک اور مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہے اور بسا اوقات اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے قدموں پر واپس لوٹ کر سورة طه ايت 115 سورة النجم - آيات 10-9 44