ہمارا خدا — Page 46
نے پانا تھا پا لیا ہے۔گویا اپنی نادانی اور غفلت اور جہالت سے وہ خدا تعالیٰ کے متعلق اس حد تک عرفان کافی سمجھتے ہیں کہ اس کارخانہ کا کوئی خالق ہونا چاہئے اور اُن کا ذہن پوری بیداری کے ساتھ اس بات کی طرف جاتا ہی نہیں کہ اگر کوئی خالق ہونا چاہئے تو وہ ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے تو کون ہے۔کہاں ہے۔کیا کیا صفات رکھتا ہے۔اس کے ساتھ ہم کس طرح تعلق پیدا کر سکتے ہیں اور ہمیں کس طرح معلوم ہوسکتا ہے کہ اُس کا بھی ہمارے ساتھ کوئی تعلق ہے؟ ایسے لوگ نہ تو آگے قدم بڑھانے کی فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی اس جھوٹی تسلی کی وجہ سے پیچھے لوٹتے ہیں اور ان کی موت اسی حالت میں اُن کو آلیتی ہے کہ وہ راستہ پر ہی بیٹھے ہوئے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم منزل مقصود تک پہنچ چکے ہیں۔آجکل خدا کے ایمان کا دم بھرنے والے اکثر لوگ اسی قسم میں داخل ہیں۔آہ! بد قسمت انسان ! تُو نے عقل کے مذھم اور کمزور چراغ سے روشنی پا کر ایک حد تک راستہ طے کیا اور پھر جب وہ وقت آیا کہ تو خدا کے رُوحانی سورج کی زبر دست کرنوں کی روشنی میں داخل ہو کر خدا کی طرف گرتا پڑتا نہیں بلکہ ) شوق سے دوڑتا بھاگتا ہو اقدم بڑھائے اور ابتداء دور سے اپنے آقا و مولی کو شناخت کر کے پھر اس کے قریب ہوتا چلا جائے حتی کہ اُس کی مقدس صفات تجھے ماں کی گود کی طرح اپنے اندر ڈھانک لیں تو تو یہ خیال کر کے کہ میں نے خُدا کو پالیا ہے وہیں اپنی عقل کے مدھم چراغ کی کمزور روشنی میں راستہ سے ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گیا اور وہیں اپنی زندگی کے دن گزار دیئے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ تیرا دل جس کے اندر خالق فطرت نے یقین کی ایسی پیاس ودیعت کر رکھی ہے جو بغیر حقیقی اطمینان کے تسلی نہیں پاتی اور جس میں عشق و محبت کی وہ آگ بھڑکائی گئی ہے جو بغیر خدا کی طرف سے محبت کا چھینٹا پڑنے کے نہیں بجھتی کس طرح بغیر اپنا مقصود حاصل کرنے کے تسکین پاسکتا ہے؟ تو اگر دھو کہ نہیں دیتا تو یقیناً دھو کہ خوردہ ہے اور یاد رکھ کہ بعض صورتوں میں دھوکہ کھانا بھی انسان کو 46