ہمارا خدا — Page 197
اطمینانِ قلب زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کے کام آتا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ دنیا کا کوئی کام بھی ایسا نہیں جو اطمینان قلب کے بغیر خیر و خوبی کے ساتھ سرانجام پاسکے۔ایک ہر یہ کا دل ہمیشہ بے اطمینانی اور بے چینی اور عدم یقین کے خیالات کا شکار رہتا ہے اور اُسے بھی بھی اپنی حالت پر بشرطیکہ وہ ایک صاحب شعور اور مذہبی مذاق کا آدمی ہو اطمینان نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت اس کے دل میں ایک دُبدھا اور خلش لگی رہتی ہے کہ ممکن ہے میری تحقیق غلط ہو اور ممکن ہے کہ میرے اوپر واقعی کوئی خالق و مالک موجود ہو۔در اصل دہریت چونکہ محض ایک منفی علم ہے اور اس کی بنیاد کسی اثباتی دلائل پر قائم نہیں یعنی عموماً ایک دہر یہ یہ نہیں کہتا اور نہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے یقیناً معلوم کر لیا ہے کہ کوئی خُدا نہیں ہے۔بلکہ وہ صرف اس حد تک رہتا ہے کہ میرے پاس خُدا کے موجود ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔اور نیز اس کی فطرت بھی اپنی گہرائیوں میں دہریت کو قبول نہیں کرتی اس لئے اس کے دل میں اپنے اس عقیدہ کے متعلق یقین اور اطمینان کی حالت کبھی بھی پیدا نہیں ہوتی اور اس کی فطرت اور نور عقل اور گردو پیش کے حالات اس کے دل میں ایک بے چینی کی کیفیت پیدار کھتے ہیں۔اور یہ بے چینی اسکی زندگی کو مضطرب اور اس کے خیالات کو پریشان کر دیتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دُنیا کے کسی کام میں بھی یکسوئی اور اطمینان نہیں پاتا۔اس کے مقابلہ میں خُدا کا عقیدہ چونکہ ایک زبردست اثباتی بنیاد پر قائم ہے اور فطرتِ انسانی بھی اس میں اطمینان پاتی ہے اس لئے ایک مومن باللہ کو نسبتاً زیادہ جمعیت خاطر اور یکسوئی حاصل رہتی ہے اور اس کے لئے کوئی حالتِ منتظرہ باقی نہیں رہتی جو اسے پریشان رکھے اور وہ اپنے ہر کام میں اپنی حالت مطمئنہ سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک دہریہ کو یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ شاید کوئی خُدا ہو اور میں اس کا انکار کر کے یونہی نقصان اُٹھاؤں اور یہ اندیشہ اس کے دل کو مضطرب رکھتا ہے۔لیکن اگر 197