ہمارا خدا — Page 196
ہے۔لیکن اس کے مقابل میں جو قوم مطلقا علم کا استعمال ہی نہیں کرتی وہ جیسا کہ صحیح استعمال کی برکات سے محروم ہوتی ہے اسی طرح غلط استعمال کے بدنتائج سے بھی محفوظ رہتی ہے اور یہی حال اس وقت یورپ و امریکہ کے مقابلہ میں بلا دمشرقی کا ہے۔پس بہر حال یورپ و امریکہ کی حالت کو ہمارے دعوی کی تردید میں پیش کرنا ہرگز درست نہیں ہوسکتا۔باقی رہا یہ سوال کہ دہریوں میں بھی حقائق الاشیاء کی تحقیق کا شوق رکھنے والے کیوں پائے جاتے ہیں؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے ہرگز یہ دعوی نہیں کیا کہ اس قسم کی علمی تحقیق کا شوق صرف خدا کے عقیدہ سے ہی پیدا ہوسکتا ہے اور دُنیا کی اور کوئی چیز اس کا باعث نہیں ہوتی۔بلکہ ہم تو اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا میں بہت سی چیزیں اس قسم کا شوق اور میلان پیدا کرنے کا موجب ہوتی ہیں۔پس اگر ایک دہر یہ دوسرے موجبات سے متاثر ہو کر اس شوق میں لگ جائے تو ہر گز قابلِ اعتراض نہیں۔ہمارا دعویٰ تو صرف یہ ہے کہ خدا کا عقیدہ حقائق الاشیاء کی تحقیق میں خاص طور پر ممد و معاون ہوتا ہے اور اگر دوسرے حالات برا بر ہوں تو ایک مومن باللہ یقیناً ایک کافر باللہ کی نسبت حقائق الاشیاء کی دریافت میں زیادہ طبعی جوش رکھنے والا، زیادہ شائق، زیادہ پُر اُمید، زیادہ مستقل مزاج اور زیادہ باہمت ثابت ہوگا کیونکہ وہ دُنیا کی ہر چیز کو ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت پیدا شدہ یقین کرتا ہے اور دہریہ کو یہ یقین حاصل نہیں۔اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔خُدا کا عقیدہ اطمینانِ قلب پیدا کرتا ہے پانچواں بڑا فائدہ جو خدا کے عقیدہ سے دُنیا کو حاصل ہوسکتا ہے یہ ہے کہ خُدا پر ایمان لانا انسان کے دل میں ایک گونہ اطمینان کی حالت پیدا کر دیتا ہے۔اور یہ 196