ہمارا خدا — Page 198
بالفرض ایک مومن باللہ کو یہ خیال پیدا بھی ہو کہ شاید کوئی خدا نہ ہو تو پھر بھی اس کے اندر کوئی اضطراب پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر کوئی خدا نہ ہوا تو پھر بھی میرے لئے کوئی خطرہ نہیں۔الغرض جس طرح بھی دیکھا جائے خدا کا عقیدہ اطمینانِ قلب کا موجب ہوتا ہے اور خدا کا انکار بے چینی اور پریشانی اور عدم یقین کا باعث۔اور اسی لئے قرآن شریف فرماتا ہے کہ:۔الَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ یعنی ”اے لوگو! اس بات کو خوب اچھی طرح سُن لو کہ دل کا اطمینان صرف خدا کے تصور اور اس کے ذکر سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔اور چونکہ انسان کے ہر کام میں اطمینان قلب کی ضرورت ہے اور دُنیا کا کوئی کام بھی ایسا نہیں جو اس اطمینان کے بغیر کامل طور پر سرانجام پاسکے اس لئے ثابت ہوا کہ خدا کا عقیدہ اس رنگ میں بھی دُنیا کی ترقی و بہبودی میں بہت بڑا دخل رکھتا ہے۔خُدا کے عقیدہ سے اخلاق کا معیار قائم ہوتا ہے چھٹا بڑا فائدہ جوخدا پر ایمان لانے کے نتیجہ میں دنیا کو حاصل ہوسکتا ہے میر ہے، کہ خُدا کا عقیدہ دُنیا میں اخلاق کا معیار قائم کرنے کا موجب ہے جو اس کے بغیر بھی بھی قائم نہیں ہوسکتا۔علم الاخلاق جسے انگریزی میں ایتھکس (Ethics) کہتے ہیں اس کے جاننے والے اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اخلاق کا کوئی معیار قائم کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اس فن کے ماہرین نے بڑی بڑی بحثیں کر کے اور بڑی دماغ سوزی کے بعد جو تعریف نیکی کی کی ہے اور جو معیار اخلاق کا قائم کیا ہے اس میں اس قدر اختلاف ہے کہ عقل حیران ہوتی ہے کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔سورة الرعد - آیت 29 198