ہمارا خدا — Page 186
والے انسان سے اس وجہ سے نفرت کرنا بھی خارج از سوال ہے کہ وہ کہیں میرے انعاموں میں کمی نہ کر دے۔خلاصہ کلام یہ کہ کسی جہت سے بھی دیکھا جائے خدا کا عقیدہ یا مذہب کا تعلق کسی صورت میں بھی تنگ خیالی اور فتنہ وفساد کا موجب نہیں ہوسکتا۔اور اگر کوئی شخص با وجود ایک مذہبی آدمی کہلانے اور خدا پر ایمان لانے کا دعویٰ رکھنے کے تنگ خیالی اور مذہب کے نام پر فتنہ و فساد کا موجب ہوتا ہے اور بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی و محبت کے جذبات نہیں رکھتا بلکہ کینہ وعداوت کے خیالات رکھتا ہے اور تنگ دل اور تنگ ظرف ہے تو وہ ہرگز ہرگز حقیقی معنوں میں مذہبی آدمی نہیں کہلاسکتا اور اس کا جسم یقین مذہب کی مقدس روح سے اُسی طرح خالی ہے جس طرح ایک اجڑا ہو امکان مکین سے خالی ہوتا ہے اور اس کا خُدا پر ایمان لانے کا دعویٰ صرف ایک زبانی دعوی ہے جس کے اندر کچھ بھی حقیقت نہیں۔مگر بدقسمتی سے اس قسم کے بے مایہ لوگ آجکل ہر ملت میں کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں اور اسلام بھی اس سے مستلخی نہیں۔اور اسی وجہ سے معترضین کو اعتراض کرنے کا موقعہ ملا ہے۔مگر حقیقی طور پر مذہبی آدمی جو مذہب کی حقیقت کو سمجھتا ہے بھی بھی تنگ ظرف اور فتنہ و فساد کا موجب نہیں ہو سکتا۔یه درست۔ست ہے کہ ایک حقیقی مومن باللہ کے ہاتھ سے بھی بعض اوقات دوسروں کو تکلیف پہنچ جاتی ہے لیکن وہ تکلیف ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ ایک مہربان ڈاکٹر اپنے مریض کو ایک کڑوی دوا پینے یاکسی بظاہر تکلیف دہ پر ہیز کے اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔اور بے شک ایک رُوحانی آدمی بھی بعض اوقات دوسروں کے خلاف جنگ میں حصہ لیتا اور بعض لوگوں کے قتل کئے جانے کا موجب ہو جاتا ہے، لیکن اس کا یہ فعل ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک ہمدرد جراح کسی ایسے بیمار کا کوئی عضو کاٹ کر الگ کر دیتا ہے جس کے متعلق وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کا یہ عضو کاٹ نہ دیا گیا تو اس کی جان ضائع 186