ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 185 of 255

ہمارا خدا — Page 185

اگر کوئی کسی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دریا میں ڈوبتا ہوا دیکھے تو اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ شخص قابل نفرت و حقارت ہے اور مجھے اس سے عداوت کرنی چاہئے یا یہ کہ وہ فور پانی میں گو دکر اس کے بچانے کی کوشش کرے گا؟ اور اگر وہ شخص کنارے پر کھڑا رہے گا اور اُس ڈوبتے ہوئے شخص کو بچانے کے لئے باوجود طاقت رکھنے کے ہاتھ پاؤں نہ مارے گا بلکہ الٹا خوش ہو گا اور ڈوبنے والے کو قابلِ نفرت و حقارت سمجھنے لگے گا اور اُسے بچانے کی کوشش کرنے کی بجائے الٹی یہ کوشش کرے گا کہ اگر ہو سکے تو میں اسے اور بھی کسی طرح نقصان پہنچاؤں تو وہ ایک انسانیت سے گرا ہوا شخص سمجھا جائے گا اور اس کی فطرت مُردہ قرار دی جائے گی۔اسی طرح جو شخص اپنے مذہب کو نجات کا رستہ سمجھنے کی وجہ سے دوسروں سے نفرت و حقارت کرتا ہے اور ان کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتا ہے وہ ایک غیر فطری فعل کا مرتکب ہوتا ہے۔اور ایسے شخص کے متعلق کبھی بھی یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ وہ مذہب کی حقیقت پر قائم ہے۔اور اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ مذہب کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور مذہب کی رُوح اُن کے اندر نہیں پائی جاتی وہی اس قسم کے خلاف فطرت باتوں کے مرتکب ہوتے ہیں والا مذہب کی حقیقت کو سمجھنے والے لوگ غلط راستہ پر چلنے والوں کے ساتھ ہمدردی کرتے اور ان کو گمراہی اور ہلاکت سے بچانے کی کوشش میں رہتے ہیں اور نفرت و عداوت کا خیال تک بھی کبھی اُن کے دل میں نہیں آتا۔علاوہ ازیں یہ نہیں سوچا گیا کہ مذہب کے انعامات اور افضال مادی مال کی طرح نہیں ہیں کہ اُن کا وارث اس بات سے خائف ہو کہ اگر وہ کسی دوسرے کو مل گئے تو میں اس سے محروم ہو جاؤنگا۔بلکہ وہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو دوسروں کو سکھانے سے ترقی کرتی اور بڑھتی اور اسی لئے ایک مذہبی آدمی اس بات کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس کے مذہب کو قبول کر کے انعامات کے وارث بنیں۔پس ایک غیر مذہب 185