ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 187 of 255

ہمارا خدا — Page 187

ہو جائے گی۔پس وہ ایک دردمند دل کے ساتھ زیادہ قیمتی چیز کے بچانے کے لئے کم قیمتی چیز کوقربان کر دیتا ہے اور سب عقلمند لوگ اس کے اس فعل کو قابل تحسین خیال کرتے ہیں۔میرے عزیزو! میں تمہیں کس طرح یقین دلاؤں کہ خدا کے رسول اور پاک بندے بھی جب کسی شخص یا گروہ کے خلاف ہاتھ اُٹھاتے ہیں تو اُن کے قلب صافی میں بھی اس پاک نیت کے سوا اور کوئی خیال نہیں ہوتا اور اُن کا دل ایک لبریز چشمہ کی طرح محبت و ہمدردی بنی نوع آدم کے جذبات سے ہر وقت معمور رہتا ہے۔یہ ایک زندہ اور ابدی حقیقت ہے جس کی تصدیق خدا کے پاک بندوں میں ہر زمانہ میں ملتی ہے۔کاش تم سمجھو! ایک درمیانی عرض حال اس مضمون کو آگے چلانے سے قبل میں ایک ضمنی عرض حال پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں نے یہ مضمون 1925 ء کے ماہ جون میں قادیان میں شروع کیا تھا اور اس کا ابتدائی حصہ اسی موسم گرما میں منصوری میں تحریر کیا جہاں مجھے ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت جانا پڑا۔اس کے بعد جب میں قادیان واپس آیا تو باقی حصہ 1925ء کے اواخر میں اور کسی قدر 1926ء میں آہستہ آہستہ ضبط تحریر میں آیا اور اس کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ یہ مضمون جس حد تک لکھا ہو اتھا اسی حد تک رہ کر آج کے دن تک جو ابتدائے اکتوبر 1927ء ہے نامکمل پڑا رہا کیونکہ میرے نئے فرائض نے اس کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں دی۔لیکن اب مجھے یہ خیال آیا اور نیز بعض دوستوں کی طرف سے بھی یہ تحریک کی گئی ہے کہ جس حد تک بھی یہ مضمون لکھا جا چکا ہے اسے چھپوا دینا چاہئے اور اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ مضمون پوری طرح مکمل ہو تو تب 187