ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 184 of 255

ہمارا خدا — Page 184

تعداد سے بھی بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔یعنی اب اگر دنیا میں صرف پانچ دس یا پندرہ ہیں مذاہب پائے جاتے ہیں تو اس وقت غالباً ہزاروں لاکھوں مذاہب پیدا ہو جائیں گے۔اور کوئی تعجب نہیں کہ یہ تعداد کروڑوں تک جا پہنچے کیونکہ ہر شخص آزاد ہو کر اپنے لئے اپنے مطلب کا مذہب بنانا چاہے گا اور ظاہر ہے کہ اس تعداد کی زیادتی کے ساتھ ہی اختلافات کی کثرت بھی غیر معمولی طور پر ظاہر ہوگی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اب اگر مذہبی اختلاف گاہے گا ہے لڑائی جھگڑے کا موجب ہوتا ہے تو اس صورت میں آئے دن مذہب کے نام پر فتنہ وفساد اور خون خرابہ ہو ا کرے گا۔اور اگر یہ کہا جائے کہ فتنہ وفساد اور تنگ خیالی کا موجب صرف الہامی مذاہب ہو سکتے ہیں جن کا مرکزی نقطہ خدا کی ذات اور قیامت اور جزا سزا کا عقیدہ ہیں۔کیونکہ ہر فرقہ اپنے آپ کو نجات یافتہ سمجھتا ہے اور دوسروں کو غیر ناجی اور جہنمی قرار دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت و حقارت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔لیکن غیر الہامی مذاہب جو انسان خود اپنے لئے آپ سوچ کر بنا تا ہے وہ اس تفرقہ اور با ہم نفرت و حقارت کا موجب نہیں ہو سکتے خصوصاً جبکہ خُدا کا خیال درمیان میں نہ آئے اور نہ جزا سزا کا کوئی خیال ہو۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شبہ فطرتِ انسانی کے بالکل خلاف ہے۔دوسرے کو خطرہ کی حالت میں دیکھنے کا طبعی اور فطرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اس کے بچانے کے واسطے کوشش کا خیال دل میں آتا ہے اور یہ بالکل غیر طبعی ہے کہ ایسے موقع پر نفرت اور حقارت کے خیالات پیدا ہوں۔پس اگر مختلف فرقہ جات اپنے آپ کو ناجی اور دوسروں کو غیر ناجی سمجھتے ہیں تو اس کا طبعی اور فطری نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کے لئے دردمند ہوں اور ان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے اپنی پوری کوشش اور سعی سے کام لیں اور اس صورت میں نفرت و حقارت وعداوت کا پیدا ہونا بالکل بیرون از سوال ہے۔کیا 184