ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 183 of 255

ہمارا خدا — Page 183

کرنے میں تمہیں کوئی نہ کوئی طریق عمل اختیار کرنا ہوگا اور یہی خیالات اور یہی طریق عمل تمہارا مذ ہب کہلائے گا۔خلاصہ کلام یہ کہ مذہب زندگی کے ساتھ لازم وملزوم کے طور پر لگا ہوا ہے اور کوئی شخص مذہب کی قید سے مطلقاً آزادنہیں ہوسکتا اور یہ جو بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص لا مذہب ہے اس کے صرف یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ کسی معروف الہامی مذہب کا پیرو نہیں بلکہ اُس نے اپنا مذہب خود آپ بنایا ہو ا ہے ورنہ حقیقتاً کوئی شخص بھی لا مذہب نہیں ہوتا۔اب جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ مذہب کی قید سے آزاد ہونا ناممکنات سے ہے تو پھر معترضین کا یہ اعتراض کہ چونکہ مذہب جنگ وجدال اور تنگ خیالی پیدا کرتا ہے اس لئے انسان کو اس سے آزاد ہو جانا چاہیئے ایک لایعنی بلکہ مضحکہ خیز بات قرار پاتی ہے جو کسی عظمند کے منہ پر نہ آنی چاہئے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ اس اعتراض سے مراد یہ ہے کہ انسان کو معروف الہامی مذاہب سے آزاد ہو جانا چاہئے تو یہ ایک جہالت کی بات ہوگی کیونکہ یہاں یہ بحث نہیں کہ فلاں مذہب فتنہ و فساد پیدا کرتا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ مطلق مذہب فتنہ وفساد کا موجب ہے والا اگر کوئی خاص مذہب واقعی فتنہ اور امن شکنی کا موجب بنتا ہے تو ہم کب کہتے ہیں کہ اُسے اختیار کرو۔ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے کہ مطلقاً مذہب فتنہ اور جنگ کا موجب ہے اور اگر یہ بات درست بھی ہو تو پھر بھی چونکہ ہم کسی صورت میں بھی مذہب سے آزاد نہیں ہو سکتے اس لئے مذہب سے آزاد ہونے کا سوال اُٹھانا ہی فضول اور لغو ہے۔علاوہ ازیں اگر بفرض محال لوگ الہامی مذاہب کی پیروی سے آزاد بھی ہو جائیں پھر بھی اُن کے اندر مذہبی خیالات موجود رہیں گے کیونکہ یہ بالکل قرین قیاس نہیں کہ ان مذاہب سے آزاد ہو کر سب لوگ اپنے واسطے ایک سے خیالات وعقائد ایک سا طریق عمل مقرر کر لیں۔بلکہ اس صورت میں دُنیا میں مذاہب کی تعداد یقیناً موجودہ 183