ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 182 of 255

ہمارا خدا — Page 182

میں اختیار کرتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اس مفہوم کے لحاظ سے کسی شخص کا مذہب سے الگ ہونا محالات عقلی میں سے ہے کیونکہ ہر شخص کوئی نہ کوئی طریق زندگی رکھتا ہے۔پس یہ سوال تو پیدا ہوسکتا ہے کہ ہم یہ مذہب پسند نہیں کرتے یا وہ مذہب پسند نہیں کرتے لیکن یہ بات کہ انسان مطلقاً مذہب سے آزاد ہو جائے قطعاً ناممکن ہے۔جب تک انسان زندہ ہے اُسے فلسفہ موت وحیات کے متعلق کچھ خیالات وعقائد رکھنے پڑینگے اور اپنے اعمال و افعال میں کوئی طریق اختیار کرنا پڑے گا اور یہی خیالات و عقائد اور طریق عمل اس کا مذہب کہلائے گا۔زیادہ سے زیادہ کوئی شخص یہ کر سکتا ہے کہ جو معروف الہامی مذاہب ہیں ان سے منحرف ہو جائے اور اپنے لئے خود اپنے دماغ سے کوئی نیا طریق نکال لے لیکن ایسا شخص مذہب کی اس تعریف کے لحاظ سے جو ابھی ہم نے بیان کی ہے حقیقتالا مذہب نہیں کہلا سکتا بلکہ جوطریق بھی وہ اپنے لئے پسند کرے گا وہی اس کا مذہب ہوگا۔اگر کوئی شخص خدا کو مانتا ہے تو یہ اس کا مذہب ہے اور اگر انکار کرتا ہے تو یہ بھی اس کے مذہب کا حصہ ہے۔الغرض مذہب زندگی کے طریق عمل اور ان عقائد و خیالات کا نام ہے جو انسان اختیار کرتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ ان معنوں کے لحاظ سے مذہب سے آزاد ہونا کسی شخص کے لئے ممکن نہیں۔تم اسلام سے آزاد ہو سکتے ہو،عیسائیت سے آزاد ہو سکتے ہو، ہندو ازم سے آزاد ہو سکتے ہو، بدھ ازم سے آزاد ہو سکتے ہو اور ہر دوسرے معروف الہامی مذہب سے آزاد ہو سکتے ہو لیکن مطلقا مذ ہب سے آزاد نہیں ہو سکتے بلکہ بہر حال تمہیں کوئی نہ کوئی مذہب ضرور رکھنا پڑے گا خواہ وہ تمہارے اپنے دماغ کا ہی بنایا ہوا کیوں نہ ہو۔تم خدا کو یا تو مانو گے یا انکار کرو گے۔اگر مانو گے تو اس کی کوئی نہ کوئی صفات بھی تسلیم کرو گے۔اگر انکار کرو گے تو اس عالم کی ابتداء اور حیات کے آغاز کے متعلق تمہیں کوئی نہ کوئی عقیدہ قائم کرنا پڑے گا۔پھر مختلف لوگوں یعنی دوست ، دشمن، رشتہ دار، غیر رشته دار، خاوند، بیوی، خادم، آقا، بادشاہ، رعایا وغیرہ وغیرہ کے ساتھ معاملہ 182