ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 181 of 255

ہمارا خدا — Page 181

روگردانی کریں کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے دنیا میں بہت سی اور باتیں بھی امن شکنی اور جنگ وجدال کا موجب ہوتی رہتی ہیں مر کوئی منظمند انسان ایسا نہیں جو اس وجہ سے اُن کے ترک کرنے کا خیال دل میں لائے۔در حقیقت بات یہ ہے کہ ہر اختلاف جس کا غلط استعمال کیا جائے بدنتائج پیدا کرے گا اور اس میں مذہب کی قطعاً کوئی خصوصیت نہیں۔سیاسی اور ملکی اختلافات کا غلط استعمال جنگ پیدا کرے گا۔قومی اختلافات کا غلط استعمال جنگ پیدا کرے گا۔تجارتی اور اقتصادی اختلافات کا غلط استعمال جنگ پیدا کرے گا۔اسی طرح مذہبی اختلافات کا غلط استعمال بھی جنگ پیدا کرے گا۔فرق صرف یہ ہے کہ باقی باتیں گو غلط استعمال میں آنے سے امن شکنی کا موجب تو ہو جاتی ہیں لیکن اُن کا صحیح استعمال خاص طور پر قیام امن اور باہم تعاون اور اخوت کے جذبات پیدا کرنے کا موجب نہیں ہوتا۔لیکن مذہب جبکہ وہ اپنی اصلی شکل وصورت میں رہے اور لوگ اس کا صحیح استعمال کر یں خصوصیت کے ساتھ امن اور تعاون اور وحدت اور اخوت اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔حق یہی ہے چا ہوتو قبول کرو۔چوتھا جواب اس شبہ کا یہ ہے کہ معترضین نے مذہب کے معنے سمجھنے میں بھی غلطی کھائی ہے۔انہوں نے غالباً یہ سمجھ رکھا ہے کہ مذہب صرف خدا کے عقیدہ کا نام ہے اور جب کسی نے یہ عقیدہ ترک کر دیا تو اُس نے گویا مذہب کو چھوڑ دیا۔گویا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ مذہب ایک ایسی چیز ہے جسے انسان چھوڑ بھی سکتا ہے۔حالانکہ گو عرفی طور پر خدا کے عقیدہ کا تارک لامذہب کہلاتا ہے ،لیکن اگر مذہب کے معنوں پر غور کیا جائے تو پتہ لگتا ہے کہ مذہب انسانی زندگی کا ایک ضروری حصہ ہے اور کسی انسان کے لئے یہ قطعاً ناممکن ہے کہ مذہب کی قید سے مطلقاً آزاد ہو سکے۔کیونکہ درحقیقت مذہب ان خیالات وعقائد اور طریق عمل کا نام ہے جو انسان موت وحیات کے متعلق اپنی زندگی 181