ہمارا خدا — Page 178
کسی شاعر نے سچ کہا ہے۔من از بیگانگاں ہرگز نه نالم که با من هرچه کرد آن آشنا کرد خلاصہ کلام یہ کہ مذہب کے متعلق ایسا خیال کرنا کہ وہ تنگ نظری اور جنگ وجدال کا باعث ہے صرف موجودہ زمانہ کی حالت کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے والا اگر مذاہب عالم کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہو کر نظر آتی ہے کہ جب کبھی بھی لوگ مذہب کی اصل روح اور حقیقت پر قائم ہوئے ہیں ان کے اندر دوسروں کی نسبت زیادہ وسعت خیالی اور روشن دماغی اور امن پسندی اور قربانی اور برداشت کا مادہ پیدا ہو گیا ہے اور تعلیم کے لحاظ سے بھی دیکھیں تو تفاصیل کو الگ رکھ کر کوئی مذہب بھی ایسا نظر نہیں آتا جو اُصولی طور پر امن پسندی اور صلح جوئی اور وسعت حوصلگی کی تلقین نہ کرتا ہو۔پس تنگ خیالی اور فتنہ و فساد کا مادہ اس تعلیم کو بھلا دینے کا نتیجہ تو ہوسکتا ہے مگر تعلیم پر کار بند ہونے کا نتیجہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔دوسرا جواب جو میں اس شبہ کا دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر غور کیا جائے تو یہ بات عقلاً بھی محال نظر آتی ہے کہ کوئی ایسا شخص جو مذہب کی حقیقت اور غرض و غایت کو سمجھتا ہو تنگ خیالی اور فتنہ وفساد کا مرتکب ہو سکے۔مذہب کا مفہوم ملک یا قوم کی طرح نہیں جو جغرافیہ کی حدود یا نسلی قیود میں محصور ہو اور اس کا حلقہ وسیع نہ کیا جا سکے بلکہ مذہب ان عقائد اور خیالات اور ضابطہ عمل کا نام ہے جو کوئی شخص حقوق اللہ اور حقوق العباد کے متعلق رکھتا ہے اور جسے وہ حق سمجھ کر دوسروں تک بھی وسیع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس مذہب ایک کھلے دروازوں والی عمارت ہے جس کے اندر ہر شخص خواہ وہ کسی قوم یا کسی ملک سے تعلق رکھتا ہو داخل ہوسکتا ہے۔بلکہ جس کے اندر داخل ہونے کی دعوت ہر مذہبی شخص دوسروں کو دیتا ہے۔اندریں حالات کوئی شخص جو حقیقی طور 178