ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 177 of 255

ہمارا خدا — Page 177

ریفرمیشن کے زمانہ میں دکھایا۔ہندو اور سکھ اور دوسرے مذاہب کی تاریخیں بھی کم و بیش یہی نظارہ ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں بلکہ بعض لحاظ سے ہندوؤں اور سکھوں میں یہ منظر زیادہ بھیانک صورت میں نظر آتا ہے۔اور یہ سب مثالیں اس بات کو ثابت کر رہی ہیں کہ در حقیقت جو الزام مذہب پر لگایا جاتا ہے وہ مذہب پر نہیں پڑتا بلکہ وہ مذہب کی رُوح سے دُور جاپڑنے کا نتیجہ ہے۔لیکن چونکہ بدقسمتی سے اس زمانہ کی تمام اقوامِ عالم مذہب کی رُوح کو ضائع کر چکی ہیں اس لئے جلد باز اور کوتہ بین نکتہ چینوں کو یہ اعتراض کرنے کا اچھا موقعہ مل گیا ہے کہ مذہب تنگ خیالی اور امن شکنی پیدا کرتا ہے۔اسی لئے خدا وند قدوس نے جو دنیا کو ضلالت کے تاریک گڑھے میں پڑا ہو انہیں دیکھنا چاہتا کمال شفقت اور مہربانی سے اپنے ایک پاک بندہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ میں ہدایت خلق کے لئے مبعوث فرمایا ہے تاکہ تمام وہ اعتراضات جو مذہب کی طرف منسوب ہونے والے لوگوں کی بداعمالی کی وجہ سے مذہب پر پڑتے تھے اور اس طرح مخلوق خدا کو خدا کی طرف سے بدگمان کرنے کا موجب ہورہے تھے اور مذہب میں تشد داور جبر اور تنگ نظری کا رستہ کھولتے تھے ان کا ازالہ ہو اور لوگ اپنے آسمانی آقا و مالک کو پہچان کر پھر بھائی بھائی بن جائیں۔مگر افسوس ہے کہ لوگوں نے اس مصلح ربانی کے خادموں اور اس آسمانی ہدایت کے شمع برداروں کے ساتھ بھی وہی جاہلانہ اور متعصبانہ طریق اختیار کر رکھا ہے جو ان لوگوں کی قدیم عادت اور شیوہ ہے۔چنانچہ کابل میں کئی بے گناہ احمدی محض احمدی ہونے کی وجہ سے نہایت ظالمانہ طور پر سنگسار کر دیئے گئے اور اس طرح خود مسلمان کہلانے والوں نے غیروں کو اسلام پر یہ اعتراض کرنے کا موقعہ دے دیا کہ اسلام جبر و تشد داور تنگ خیالی اور بے جا تعصب اور ظلم وستم کی تعلیم دیتا ہے۔افسوس ! صد افسوس! 177