ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 179 of 255

ہمارا خدا — Page 179

پر مذہب کی غرض کو پورا کرنا چاہتا ہے کسی صورت میں بھی تنگ خیالی یا فتنہ وفساد کا مرتکب نہیں ہوسکتا بلکہ برخلاف اس کے ایسے شخص کی یہ انتہائی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے حُسنِ اخلاق اور پُر امن تبلیغ و تلقین سے دوسروں کو اپنا ہم خیال بنائے اور کسی ایسی بات کا مرتکب نہ ہو جو لوگوں کے لئے اس کا مذہب پسند کرنے کے رستہ میں روک ہو جائے۔پس یہ قطعاً محال ہے کہ کوئی شخص جو مذہب کی حقیقت پر قائم ہے اور مذہب کی غرض وغایت کو سمجھتا ہے تنگ خیالی اور فتنہ و فساد کا مرتکب ہو۔تیسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ اگر بعض اوقات مذہب جنگ وجدال کا موجب ہوتا ہے تو کیا اور چیزیں اس کا موجب نہیں ہوتیں؟ دُنیا میں بیسیوں باتیں ایسی ہیں کہ جو اقوام و افراد کے درمیان جنگ اور فساد کا موجب ہو جاتی ہیں تو کیا اس وجہ سے ان سب کو ترک کر دیا جائے گا ؟ ملکی اور سیاسی اختلافات۔قومی سوالات۔تجارتی اور اقتصادی امور وغیرہ وغیرہ بیسیوں اس قسم کی باتیں ہیں کہ جو اقوام عالم کے درمیان جنگ و جدال کا باعث ہو جاتی ہیں۔اور اسی طرح افراد کے درمیان فتنہ و فساد کے پیدا ہو جانے کے بھی سینکڑوں موجبات ہیں جن سے کوئی عقلمند شخص انکار نہیں کرسکتا تو کیا ان سب باتوں کو صرف اس وجہ سے چھوڑ دیا جائے گا کہ کبھی کبھی ان کی وجہ سے امن شکنی ہو جاتی ہے؟ اگر ایسا کیا جائے تو اس کے یہ معنے ہونگے کہ زندگی کے تمام شعبوں کو ترک کر کے ہر شخص رہبانیت اختیار کر لے تا کہ نہ دوسروں کے ساتھ معاملہ پڑے اور نہ کوئی اختلاف و انشقاق کی صورت پیدا ہو۔تاریخ عالم پر نظر ڈالو۔دُنیا کی بیشتر جنگیں ایسی گذری ہیں کہ جن کا باعث مذہبی اختلاف ہرگز نہ تھا بلکہ کسی جگہ ملکی یا سیاسی اختلاف تھا اور کسی جگہ کوئی قومی سوال پیدا ہو گیا تھا اور کسی جگہ کوئی اقتصادی اور تجارتی امر در پیش تھا اور کسی جگہ کوئی اور اسی قسم کی وجہ تھی۔ابھی جو یہ گذشتہ جنگ یورپ میں بلکہ ساری دنیا میں وقوع میں آئی ہے اس میں 179