ہمارا خدا — Page 117
شعور کے اندر کام کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ جو کسی عظمند کے نزدیک تجر بہ اور گرد و پیش کے حالات کا نتیجہ نہیں ہو سکتے یعنی وہ معاملات اپنی نوعیت میں ایسے ہیں کہ کسی صورت میں بھی ان کا نفع یا نقصان انسانی تجربہ میں آکر معلوم نہیں ہوسکتا اور اس لئے اگر ان کے متعلق کوئی شعور پایا جاتا ہے تو وہ ہرگز حالات یا تجربہ کا نتیجہ نہیں کہلا سکتا بلکہ لاریب ایسے شعور کا منبع کوئی بالا طاقت سمجھی جائے گی جس نے خاص حکمت کے ماتحت یہ شعور ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھا ہے۔مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ مُردہ کا احترام کسی نہ کسی صورت میں ہر قوم اور ہر زمانہ میں پایا جاتا رہا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ یہ شعور اپنی نیچر کے لحاظ سے ایسا ہے کہ ایسے تجربہ اور گردوپیش کے حالات سے قطعا کوئی تعلق نہیں اور اسے سوائے فطرت کی آواز کے کسی اور طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔خلاصہ کلام یہ کہ بعض ایسی باتوں میں نیکی بدی کا شعور پایا جانا جن کا نفع نقصان کبھی بھی تجربہ میں آکر معلوم نہیں ہوا اور نہ جن میں بظاہر کوئی مادی فائدہ نظر آتا ہے اس بات کا ایک بین ثبوت ہے کہ یہ شہ تجربہ اور حالات کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک فطری امر ہے جو کسی بالا ہستی نے ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھا ہے۔وهو المراد تیسری دلیل اس بات کی کہ نیکی بدی کا شعور ایک فطری شعور ہے یہ ہے کہ یہ شعور بعض صورتوں میں قومی روایات کے خلاف بھی ظاہر ہوتا ہے جس سے یہ بات ط طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ وہ قومی روایات کا نتیجہ نہیں کیونکہ نتیجہ بھی بھی نتیجہ پیدا کرنے والی چیز کے مخالف نہیں ہوسکتا۔تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ مثلاً ایک قوم ایک لمبے زمانہ کے حالات کے ماتحت اپنے اندر سخت دلی پیدا کر لیتی ہے اور اس کے افراد میں ظلم وستم اور سخت گیری کی طرف میلان پیدا ہو جاتا ہے اور قومی روایات ہر فرد قوم کو سنگدل اور بے رحم اور قسی القلب بنادیتی ہیں لیکن بائیں ہمہ اگر اس کے افراد کی فطرت اور سائیکالوجی کا گہرا مطالعہ کیا جائے اور ان کے سوانح زندگی کو غور سے دیکھا 117 طعی