ہمارا خدا — Page 118
جائے تو باوجود اس سنگدلی کے پردہ کے جس نے ان کو ڈھانپا ہو ا ہوتا ہے ان کے اندر رحم کا جذ بہ بھی ضرور نظر آئے گا اور کسی نہ کسی وقت کسی نہ کسی صورت میں پیخفی جذ بہ اپنی جھلک دکھا جائے گا۔اسی طرح ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ ایک قوم ایک لمبے عرصہ تک ایسے حالات میں سے گذری ہے جس نے اس کے اندر رحم اور عفو اور نرمی کے خیالات کی پرورش کی ہے اور اس کے ہر فرد کے لئے قومی روایات صرف رحم سے وابستہ ہو گئی ہیں لیکن اگر غور سے دیکھا جائے گا تو معلوم ہوگا کہ باوجود ان حالات کے ایسی قوم کے ہر فرد میں یہ جذبہ پایا جائے گا کہ اگر اصلاح کی صورت سختی اور گرفت کے ساتھ ہوتی ہو اور عفو کرنا اور رحم دکھانا نقصان کا موجب ہو تو ایسی صورت میں عفو اور رحم سے کام نہ لینا چاہئے بلکہ گرفت اور مناسب سزا کا طریق اختیار کرنا چاہیئے۔الغرض نیکی بدی کا یہ فطری شعور بعض اوقات قومی روایات اور ملکی حالات کے خلاف بھی پایا جاتا ہے کیونکہ وہ فطرت کا حصہ ہے اور فطرت گو حالات کے اثر کے نیچے آکر دب جائے مگر کبھی بھی وہ بالکل مُردہ نہیں ہوسکتی اور اسی لئے بسا اوقات یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک شخص کے قومی یا خاندانی حالات و روایات اس کی طبیعت کو ایک خاص رنگ میں ڈھال دیتے ہیں اور گویا ان حالات وروایات کے نتیجہ میں اس کے اندر ایک نئی فطرت قائم ہو جاتی ہے جسے فطرت ثانیہ کہہ سکتے ہیں مگر پھر بھی جب اصلی فطرت کو کوئی تحریک ملتی ہے تو وہ ایک بند آتش فشاں پہاڑ کی طرح فطرت ثانیہ کے پردوں کو پھاڑ کر باہر آ جاتی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ بیشک حالات وروایات کے ماتحت بھی ایک رنگ کی فطرت قائم ہو جاتی ہے لیکن یہ فطرتِ ثانیہ ہے نہ کہ فطرتِ اصلیہ۔اور فطرتِ اصلیہ وہی ہے جس کو حالات وروایات ملکی یا تجربات قومی کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ وہ ہر انسان کی خلقت کا حصہ ہے اور یہ فطرتِ اصلیہ جس کے اندر ایک نہایت حکیمانہ رنگ میں نیکی بدی کا شعور ودیعت کیا گیا ہے اس بات کا ایک روشن ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک 118