ہمارا خدا — Page 116
ایک دوسرے کے ساتھ میل جول اور اختلاط کے ذرائع مفقود تھے یہ شعور لازماً مختلف اقوام میں مختلف صورتوں میں پیدا ہونا چاہئے تھا۔کیونکہ ہر قوم کا تجربہ اور ہر قوم کے حالات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قومی عادات وطوار جو یقیناً گر دو پیش کے حالات کا نتیجہ ہوتے ہیں ہر قوم میں مختلف نظر آتے ہیں۔پس اگر نیکی بدی کا شعور بھی اقوام کے حالات اور تجربہ کا نتیجہ ہوتا تو یہ ضروری تھا کہ وہ ہر قوم اور ہر زمانہ میں مختلف صورتوں میں نظر آتا۔لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ شعور دنیا کی ہر قوم اور ہر زمانہ میں ہمیشہ یک صورتی یعنی یونی فارمیٹی (Uniformity) کی حالت میں پایا گیا ہے۔مثلاً اگر ہم دُنیا کی دو ایسی قوموں کولیس جن کے حالات بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں مثلاً ایک بہت متمدن اور تعلیم یافتہ اور مہذب ہو اور دوسری بالکل وحشی اور جاہل اور غیر مہذب ہو تو دونوں میں باوجوداس درجہ اختلاف کے یہ شعور جہاں تک مجر دشعور کا تعلق ہے اصولاً بالکل ایک جیسا اور ایک ہی صورت و شکل کا نظر آئے گا اور اگر اختلاف ہوگا تو صرف ان معاملات میں ہوگا جو بعد کے نشو ونما سے تعلق رکھتے ہیں۔یعنی ایک قوم میں یہ فطری شعور ایک خاص رنگ میں اور خاص رستہ پر نشو ونما پایا ہوا معلوم ہوگا اور دوسری قوم میں وہ دوسرے رنگ میں اور دوسرے رستہ پر نظر آئے گا مگر جب ان کو بعد کے تاثرات سے الگ کر کے ان کی اصل کے لحاظ سے دیکھا جائے گا تو دونوں میں ایک ہی صورت اور ایک ہی رنگ ڈھنگ نظر آئیں گے۔اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شعور اپنی اصل کے لحاظ سے حالات اور تجربات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک فطری ودیعت ہے جس سے کوئی ابنِ آدم محروم نہیں۔دوسری دلیل اس بات کی کہ یہ شعور ایک فطری امر ہے اور کسی خارجی اثر کا نتیجہ نہیں یہ ہے کہ اگر نظر غور سے دیکھا جائے تو بعض ایسے معاملات میں بھی یہ شعور انسان 116