ہمارا آقا ﷺ — Page 64
ہمارا آقا ع 64 اسد اس کے ساتھ ہولیا اور اُس کا بھی وہی انجام ہوا، جو اس کے ساتھی کا ہو چکا تھا۔گیا۔اس کام سے فارغ ہو کر براض اونٹوں کو لے کر مکہ معظمہ روانہ ہو قریش اس وقت عکاظ کے میلے میں گئے ہوئے تھے۔راستہ ہی میں اُس نے ایک آدمی کے ہاتھ قریش کو کہلا بھیجا کہ میں نے عروہ کو قتل کر ڈالا ہے۔غالب گمان ہے کہ اُس کا بدلہ بنی قیس تم سے لینا چاہیں گے۔اس لیے ذرا ہوشیار رہنا۔“ یہ پیغام براض نے قریش کو بدیں وجہ بھیجا تھا کہ براض کی قوم یعنی بنی کنانہ اور قریش ایک دوسرے کے عزیز اور دوست تھے اور عرب میں عام رواج تھا کہ دشمن کے دوست کو بھی اپنا دشمن ہی سمجھتے اور اگر اصلی دشمن پر بس نہ چلتا تو دشمن کے دوست کی قوم پر حملہ کر کے جسے چاہتے مار ڈالتے۔قریش کو جب براض کا یہ پیغام پہنچا تو وہ جلدی جلدی اپنے آدمیوں کو عکاظ میں سے سمیٹ کر مکہ کو روانہ ہو گئے لیکن اتنی دیر میں بنی قیس کو عروہ کے قتل کی خبر مل چکی تھی۔وہ دوڑے کہ قریش میں سے جتنے آدمی مل سکیں فور اعروہ کے قصاص میں قتل کر ڈالیں۔