ہمارا آقا ﷺ — Page 63
ہمارا آقا ع 63 اس کے بعد مسادر کو اکیلا چھوڑ کر چلا گیا اور تھوڑی دیر میں واپس آکر کہنے لگا کہ ہاں وہ موجود ہے اور اس وقت خوش قسمتی سے اُس کے قتل کا بہت عمدہ موقع ہے کیونکہ وہ بے خبر پڑا سورہا ہے۔ایک ہی وار میں اُس کا سر تن سے جدا ہو سکتا ہے۔ذرا مجھے اپنی تلوار دکھا دو تا کہ میں دیکھے لوں کہ وہ کیسی کاٹ کرتی ہے؟“ نا دان اور بھولے بھالے مسادر نے تلوار براض کے ہاتھ میں دے دی۔تلوار لیتے ہی براض نے جھپٹ کر مسادر پر وار کیا اور جس طرح یکی اچانک کبوتر پر آپڑتی ہے۔اسی طرح اُس نے مسادر پر حملہ کر کے اُس کا خاتمہ کر دیا۔اس کام سے فارغ ہو کر اُس نے مساور کی لاش اور اُس کی تلوار کو تو و ہیں پتھروں میں چھپادیا اور خود اس کے دوسرے ساتھی اسد کے پاس آیا اور اُس سے کہنے لگا: ” میں نے تیرے ساتھی سے زیادہ ڈرپوک اور بز دل آدمی اس وقت تک کوئی نہیں دیکھا ، میں اُسے براض کے گھر لے گیا۔وہ اس وقت سور ہا تھا۔میں نے اُس سے کہا ”دیکھتا کیا ہے؟ تلوار کے ایک وار میں اُسے ہمیشہ کی نیند سلا دے۔مگر اس سے کچھ بھی ، نہ ہو سکا، اب میں تجھے لینے آیا کے لیے ہوں۔چل ، تا کہ تینوں مل کر 66 براض کا خاتمہ کر دیں۔“