ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 60 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 60

ہمارا آقا ع 60 چونکہ عروہ نے مالِ تجارت کا ذمہ لیا تھا۔اس لیے نعمان نے مال اُس کے حوالے کیا اور وہ اپنے آدمیوں کے ساتھ سفر پر روانہ ہو گیا۔براض بھی اس کے پیچھے دربار سے نکلا اور اس تاک میں رہا کہ موقع لگے تو عروہ کا قصہ پاک کردوں۔دونوں کا سفر ساتھ ساتھ جاری رہا۔خیبر کے قریب پہنچ کر وادی تیمن کی تنہائی میں بڑاض نے فال دیکھی کہ عروہ کوقتل کر ڈالنا چاہیے یا نہیں؟ وہ فال دیکھ ہی رہا تھا کہ اتفاقاً عروہ آدھمکا اور پوچھنے لگا:۔" کیا کر رہے ہو؟“ بر اض نے جواب دیا : ” فال دیکھ رہا ہوں کہ تجھے اس دنیا سے چلتا کر دوں یا نہیں ؟ بول تیری کیا مرضی ہے فال دیکھوں یا نہیں ؟“ عروہ نے بے پروائی کے ساتھ ہنس کر کہا : ”بھلا تیری کیا مجال ہے کہ میری طرف ٹیڑھی نگاہ سے بھی دیکھ سکے؟“ اس پر براض نے ادھر ادھر دیکھ کر تلوار نکالی اور بڑی پھرتی کے ساتھ عروہ کے پیٹ میں بھونک دی۔فوراً ہی اس قتل کی خبر مقتول کے آدمیوں کو ہوگئی۔وہ قاتل کے پیچھے دوڑے مگر براض خیبر کی طرف فرار ہو چکا تھا۔