ہمارا آقا ﷺ — Page 59
ہمارا آقا ع 59 ایک سال جب اُس نے عکاظ میں مال بھیجنا چاہا تو دربار میں بیٹھ کر کہنے لگا:۔" میرے مال کی حفاظت کا ذمہ کون شخص لیتا ہے؟" اُس وقت اُس کے دربار میں بنی کنانہ کا ایک آدمی براض بن قیس موجود تھا۔یہ شخص بڑا فسادی ، عیار، چالاک اور مکار واقع ہوا تھا۔بادشاہ کے پوچھنے پر کھڑا ہو کر کہنے لگا۔" حضور اپنی کنانہ کی طرف سے تو میں اس مال کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہوں۔“ نعمان نے کہا ”مجھے بنو کنانہ اور بنی قیس دونوں سے خطرہ ہے۔کیا کوئی ایسا شخص میرے دربار میں موجود ہے جو دونوں قبیلوں سے میرے مال کی حفاظت کا ذمہ لے؟“ فوراً ایک سردار عروہ بن عتبہ کھڑا ہو گیا۔یہ بنی قیس سے تھا۔” میں دونوں قبیلوں سے آپ کے مال کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہوں۔“ ہے؟ اس پر طیش میں بھر کر بر اض نے کہا: ” کیا بنی کنانہ کا بھی تو ذمہ لیتا عروہ بولا :۔او کتے ! بکواس نہ کر، میں نہ صرف دونوں قبیلوں 66 سے بلکہ تمام جہان کے آدمیوں سے اس مال کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہوں۔“ مارے غصہ کے براض دیوانہ ہو گیا۔مگر اُس نے بادشاہ کے حضور میں کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور خاموش ہو گیا۔