ہمارا آقا ﷺ — Page 61
ہمارا آقا ع 61 اب دو آدمی اسد بن جوین اور مسادر بن مالک اس کے تعاقب میں روانہ ہوئے کہ جہاں پائیں اُسے عروہ کے قصاص میں مار ڈالیں۔مگر بد قسمتی یہ ہوئی کہ دونوں آدمی براض کی شکل سے نا آشنا تھے لیکن انہوں نے خیال کیا کہ آخر وہ میر ہی گیا ہے۔ہم خیبر چل کر اُس کا پتہ نشان پوچھ لیں گے اور پھر موقع پر پہنچ کر اُسے مارڈالیں گے۔جب یہ دونوں خیبر پہنچے تو اتفاقاً جو آدمی سب سے پہلے ان کو ملا ، وہ کم بخت بر اض ہی تھا۔انہوں نے براض سے پوچھا : ”میاں کیا تمہیں بڑاض کا بھی پتا ہے؟ وہ آج ہی کل میں یہاں آیا ہے۔“ کام ہے؟ تراض نے کہا : ہاں کیوں نہیں، پتا تو ہے لیکن تم کو اس سے کیا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں آدمی بے وقوف بھی پرلے درجے کے تھے جھٹ کہنے لگے کہ وہ ہمارے سردار کو مار آیا ہے۔لہذا ہم اُسے مارنے آئے ہیں۔اب تو براض چوکتا ہوا۔مگر اُس نے گھبراہٹ کو دبا کر بظاہر نہایت اطمینان سے جواب دیا کہ ”بے شک براض خبیث ہے ہی اس قابل کہ ایک ہی وار میں جہنم واصل کردیا جائے۔کمبخت سے ایک زمانہ نالاں ہے