ہمارا آقا ﷺ — Page 38
ہمارا آقا ع 38 ڈاکوؤں کو ننھے بچے کی ان بھولی باتوں پر بے اختیار ہنسی آگئی۔انہوں نے بچے کو کچھ نہ کہا اور بکریاں لے کر چلنے لگے۔جب بچے نے دیکھا کہ ڈاکوؤں نے میری بات نہیں مانی اور بکریاں لیے جارہے ہیں تو ننھا معصوم پھرتی کے ساتھ آگے بڑھا اور بکریوں کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ڈاکوؤں نے کم سن بچے کی اس جرات کو تعجب کے ساتھ دیکھا اور کہا: ” ہٹ جا اور ہمیں بکریاں لے جانے دے!“ 66 نہیں ! کبھی نہیں ! مجھے مارڈالو اور بکریاں لے جاؤ۔جب تک میں زندہ ہوں بکریاں یہاں سے نہیں جائیں گی۔" بچے کا جواب تھا۔ڈا کو حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔اتنا چھوٹا سا کمزور بچہ اور اتنا دلیر! نہایت تعجب کے ساتھ قزاقوں کا سردار آگے بڑھا، بچے کو پیار کیا اور شفقت کے ساتھ پوچھا:۔”میاں تم کس کے لڑکے ہو؟“ بچے نے جواب دیا۔” عبد المطلب کا سارے عرب میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو عبد المطلب کے نام سے واقف نہ ہو۔سنتے ہی ڈاکو بولا :۔