ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 106 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 106

ہمارا آقاعل الله 106 (31) پتھروں کے پرستار جب مکہ میں بت پرستی شروع ہوئی تو چونکہ کعبہ تمام عرب کا مذہبی مرکز تھا اور ہر شخص کے دل میں کعبہ کا ادب اور اُس کی تعظیم تھی اس لیے آہستہ آہستہ سارے عرب میں بت پرستی پھیل گئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر قبیلے کا ، ہر خاندان کا ، ہر گھرانے کا، بلکہ ہر شخص کا خدا علیحدہ بن یہ سارے خدا پتھر کے ان گھڑ ٹکڑے یا بے ڈھنگے تراشے ہوئے بہت تھے۔جب کوئی شخص سفر پر جاتا تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جاتا۔راستے میں جہاں قیام کرتا اُن پتھروں کا چولہا بنا کر کھانا پکا تا اور کھا پی کر جب فارغ ہو جاتا تو انہی میں سے ایک پتھر اٹھا تا اور اُس کے آگے سجدے میں گر پڑتا۔مگر یہ پتھر ساتھ لے جانے کا قصہ درمیانی زمانہ کا تھا۔جب بُت پرستی اُن کی رگ رگ میں ساگئی تو پھر اس کی بھی ضرورت نہ رہی۔سفر میں جہاں پڑاؤ ڈالتے وہیں سے ایک پتھر اٹھا لیتے اور اُسے اپنا خدا بنا لیتے۔ویسے بھی احتیاطاً ہر ایک کی جیب میں ایک پتھر رہتا تھا۔راہ چلتے میں جس وقت دل چاہا نکال کر اُس کی ہو جا کر لی اور پھر اُسے جیب میں ڈال لیا۔