ہمارا آقا ﷺ — Page 107
ہمارا آقا ع 107 مگر تماشہ یہ تھا کہ باوجو د بت پرستی کے اس عشق کے جب اُنہیں غصہ آتا تھا تو اپنے خداؤں کو بُرا بھلا کہنے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔امراء القیس ایک بہت مشہور شاعر تھا۔اُس کے باپ کو کسی نے قتل کر دیا۔اُس نے اپنے بُت کے سامنے جا کر فال لی کہ مجھے باپ کے قاتل سے بدلہ لینا چاہیے یا نہیں ؟ بد قسمتی سے فال میں نکلا کہ قصاص نہیں لینا چاہیئے۔شاعر کو غصہ تو بہت آیا۔مگر اُس نے خیال کیا کہ شاید فال لینے میں غلطی ہوگئی۔بھلابت ایسی نا انصافی کا حکم کس طرح دے سکتا ہے؟ اس لیے دوبارہ فال لی۔مگر پھر بھی فال میں یہی نکلا کہ بدلہ نہیں لینا چاہیئے۔اب تو شاعر کے غیظ غضب کی حد نہ رہی اُس نے نہایت طیش میں آکر اپنے خدا پر تھوک دیا اور کہنے لگا: " کم بخت ! اگر تیرا باپ مارا جاتا تو پھر میں دیکھتا کہ تو کس طرح قصاص نہ لیتا؟“ ایک آدمی کا اونٹ کچھ بیمار تھا۔وہ اُسے اپنے بُت کے پاس لے گیا اور اُس سے التجا کرنے لگا کہ اسے تندرست کر دے۔اُس بُت کا نام سعد تھا۔اتفاقاً بُت کو دیکھتے ہی اونٹ بدک کر بھاگا اور آن کی آن میں نظروں سے غائب ہو گیا۔اس پر اعرابی بڑے غصے میں بھر کر بولا : " او بد نصیب بہت ! یہ تو نے کیا حرکت کی ؟ جتلا! اب میں کیا کروں اور کہاں سے اپنے اونٹ کو