ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 104 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 104

ہمارا آقا ع 104 تاب کے قیام کے دوران میں اُس نے گاؤں کے باشندوں کو دیکھا کہ بیٹوں کو پوج رہے اور اُن کے آگے سجدے کر رہے ہیں۔عمرو کے لیے یہ بات بالکل نئی تھی۔یہ تماشہ دیکھ کر اُسے بڑی حیرت ہوئی اور اس نے تعجب سے پوچھا کہ: ”بھئی تم انہیں کیوں سجدہ کر رہے ہو؟ اور یہ کون ہیں؟" تاب والوں نے جواب دیا کہ میاں تمہیں اتنا بھی پتہ نہیں ؟ سیہ تو بے انتہا مفید وجود ہیں۔یہ ہماری ہر ضرورت کو پورا کرتے اور ہماری ہر حاجت کو برلاتے ہیں۔یہ ظاہر میں تو پتھر نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں بڑی طاقتوں والے ہیں۔جب ضرورت ہوتی ہے بارش برسا دیتے ہیں، جب حاجت ہوتی ہے دھوپ نکال دیتے ہیں ، ہمارے دشمنوں کو پامال کرتے ہیں ، ہمارے دوستوں کو نہال کرتے ہیں ، ہمیں راحت ، آرام اور خوشی بخشتے ہیں، بیماری سے شفاء اور قرض سے نجات دیتے ہیں۔غرض ہم اُن سے جو التجا کریں وہ اسے پوری کرتے ہیں۔“ عمرو بن تھی نے جو یہ لچھے دار بیان سُنا تو اپنی بیوقوفی کی ترنگ میں بے اختیار اُن سے کہنے لگا:۔" جب یہ بات ہے تو تم لوگ بڑے مزے میں ہو۔اگر تم مہربانی کر کے ان میں سے ایک بہت مجھے بھی دے دو تو میں اس کو اپنے وطن میں