ہمارا آقا ﷺ — Page 103
ہمارا آقاعل الله 103 (20) جنوں کا سردار خدا کے گھر میں کعبہ کو حضرت ابرا ہیم اور حضرت اسمعیل نے صرف خدا کی عبادت کے لئے بنایا تھا۔لیکن بعد میں اُن کی اولا د گمراہ ہوگئی اور خدا کی پرستش چھوڑ کر بچوں کو پوجنے لگی۔اس ضلالت میں یہ لوگ اس قدر بڑھے کہ خود خانہ کعبہ میں بت لا کر رکھ دیے اور اُن کی پوجا پاٹ کرنے لگے۔ان بتوں کی تعداد آہستہ آہستہ زیادہ سے زیادہ ہوتی گئی۔یہاں تک کہ تین سو ساٹھ تک پہنچ گئی۔خدا کی پناہ! شاید دُنیا کے کسی بت خانہ میں اتنے بت نہ ہوں گے جتنے خدا کے اس گھر میں رکھے ہوئے تھے۔کعبے کے ان خداؤں کا سردار مبل تھا۔یہ بت خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا۔اسی کم بخت سے عرب میں بُت پرستی کا رواج شروع ہوا تھا۔جس کی کہانی حسب ذیل ہے:۔مکنہ کا مقتدر رئیس او کعبہ کا متولی قبیلہ کو الہ کا ایک شخص عمرو بن تھی تھا۔یہ ایک مربتہ سخت بیمار ہو گیا۔ہر چند علاج معالجے کیے لیکن صحت نہ ہوئی۔کسی نے اُسے بتایا کہ ملک شام کے مقام تاب میں ایک چشمہ ہے۔اگر اس کے پانی سے نہاؤ تو تمہارا مرض دور ہو جائے گا۔چنانچہ عمرو وہاں گیا اور چشمہ کے پانی سے غسل کر کے تندرست ہو گیا۔