حَمامة البشریٰ — Page 156
حمامة البشرى ۱۵۶ اردو ترجمه ومعلوم أن كون اليهود مغلوبین اور ظاہر ہے کہ روز قیامت تک یہودیوں کا مغلوب ہونا إلى يوم القيامة يقتضى وجودهم قیامت کے دن تک اُن کے وجود، اُن کی بقاء اور اُن وبقاء هم وكفرهم إلى يوم الدين کے کفر کا تقاضا کرتا ہے۔اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ ومعلوم أن كلّ ما يُعارض أخبار ہر وہ بات جو قرآن کی بتائی ہوئی خبروں کے معارض القرآن ويُخالفه فهو كذب صريح اور مخالف ہو وہ کذب صریح ہے۔اور وہ اصدق وليس من أحاديث أصدق الصادقين (ع) کی احادیث میں سے نہیں۔تمام الصادقين۔بل المراد من هلاك ملتوں کے ہلاک ہونے سے مراد دراصل اُن کا دلائل الملل كلها هلاكهم بالبينة، ولا سے ہلاک ہونا ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شك أنه من هلك من البينة فقد دلیل سے ہلاک ہوا وہ حقیقۂ ہلاک ہوا۔اور جس نے هلك، ومن أتم الحجة على أحد كسى پر حجت تمام کی تو گویا اُس نے اُسے ہلاک ہی فقد أهلكه، فتفكر كالمتوسّمين۔کر دیا۔پس تو اہل فراست کی طرح غور و فکر کر۔واعلم أن حديث هلاك الملل اور تو جان لے کہ تمام ملتوں کے ہلاک صحيح، ولـكـن أخـطـأ العلماء ہونے والی حدیث صحیح ہے مگر علماء نے اسے في فهمه، وما فهموا من هلاك سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔اُنہوں نے اہلِ أهل الأديان فهو ليس بصحيح، ادیان کے ہلاک ہونے کا جو مفہوم سمجھا ہے بل الـمـعـنـى الصحيح هو الذي وہ صحیح نہیں۔بلکہ اس کے صحیح معنی وہ ہیں يشير إليـــه الـقـرآن في آية: جن کی طرف قرآن نے آیت هُوَ الَّذِي هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ عَلَى الدِّينِ كُله لے میں اشارہ فرمایا ہے۔لے وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اُسے دین (کے ہر شعبہ ) پر کلیۂ غالب کردے۔(الصف:۱۰)