حدیقۃ الصالحین — Page 715
715 حضرت ابن مسعود ہنس پڑے اور کہا کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں۔؟ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اسی طرح رسول اللہ صلی الی نام ہنسے تھے۔اس پر صحابہ نے عرض کیا تھا یار سول صلی علیم اللہ ! آپ کسی بات پر ہنس رہے ہیں۔آپ نے فرما یارب العالمین کے ہننے پر۔جب اس شخص نے عرض کیا کیا مجھ سے مذاق کرتا ہے ؟ اور تورب العالمین ہے۔تب وہ ( اللہ تعالیٰ) وہ فرمائے گا یقینا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا لیکن میں جو چاہوں اس پر قادر ہوں۔914ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَمُجِبَتِ الجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ بخاری کتاب الرقاق باب حجبت النار بالشهوات (6487) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا آگ نفسانی خواہشوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور جنت ان باتوں سے ڈھکی ہوئی ہے جو نفس کو بری معلوم ہوتی ہیں۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُفَتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُقَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ (مسلم ، کتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها باب صفة الجنة 5035) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا جنت ناپسندیدہ باتوں سے گھری ہوئی ہے اور جہنم (نفسانی) خواہشات سے گھری ہوئی ہے۔یعنی جنت کے حصول کے لئے بہت سی آزمائشوں، ابتلاؤں، جن کو انسان نا پسند کرتا ہے ، ان میں سے گزرنا پڑتا ہے۔