حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 716 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 716

716 915۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو مَالِكٍ، عَنْ رِبَعِي، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ، فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ۔۔۔فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ، وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحم، فَتَقُومَانِ جَنَبَتَي القِرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَيَمُرُ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ قَالَ قُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأَقِي أَيُّ شَيْءٍ كَمَةِ الْبَرْقِ ؟ قَالَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمْرُ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ ؟ ثُمَّ كَمَرٍ الرِّيحِ ، ثُمَّ كَمَةِ الطَّيْرِ، وَشَدِ الرِّجَالِ، تَجْرِى بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الفِرَاطِ يَقُولُ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ، حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا قَالَ وَفِي حَافَقِي الفِرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنِ أُمِرَتْ بِهِ، فَمَخْدُوشُ تَاجِ، ومكدوس في النَّارِ وَالَّذِي نَفْسُ أبي هريرة بيدِهِ إِنْ فَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا (مسلم کتاب الایمان باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها 280) حضرت ابو ہریر گا اور حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی کریم نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور مؤمن کھڑے ہوں گے یہانتک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی۔پس وہ محمد صلی اللی یکم کے پاس جائیں گے۔چنانچہ آپ کھڑے ہوں گے۔آپ ملی ایام کو اجازت دی جائے گی اور امانت اور ر تم بھیجا جائے گا۔وہ (پل) صراط کے دائیں بائیں کھڑے ہو جائیں گے۔تم میں سے پہلے بجلی کی طرح گزر جائیں گے۔راوی کہتے ہیں میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کون سی چیز بجلی کے گزرنے کی طرح ہے ؟ آپ نے فرمایا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا کہ وہ کیسے گزرتی ہے اور پلک جھپکنے میں لوٹتی ہے۔پھر دوسرے ہوا کے چلنے کی طرح۔پھر تیسرے پرندہ کے گزرنے کی طرح اور آدمیوں کے دوڑنے کی طرح۔ان کے اعمال ان کو تیزی سے لے کر چلیں گے۔اور تمہارا نبی صلی این کلم پل صراط پر کھڑا ہو گا۔وہ کہے گا اے میرے رب !سلامتی نازل فرما، سلامتی نازل فرما یها متک ا کہ بندوں کے اعمال تھک کر رہ جائیں گے یہانتک کہ ایسا آدمی آئے گا جو چل نہ سکے گا مگر گھسٹ کر۔فرمایا 1 : امانت یعنی فرائض کی ادائیگی اور صلہ رحمی پل صراط پر گویا نیک لوگوں کی حفاظت کا ذریعہ بنے گی۔