حدیقۃ الصالحین — Page 702
702 حرص اور بخل 894- عَنْ مُطَرفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ: أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ، قَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي قَالَ وَهَلْ لَكَ، يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفَنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ ؟ (مسلم کتاب الزهد والرقائق باب الدنيا سجن للمومن وجنة الكافر 5244) مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں میں نبی صلی المینیم کے پاس آیا تو آپ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ کی تلاوت فرمار ہے تھے۔آپ نے فرمایا ابن آدم کہتا ہے میر امال میر امال۔آپؐ نے فرمایا اے ابن آدم! تیر امال تو وہی ہے جو تو نے کھایا اور ختم کر دیا، پہن کر پر انا کر دیا یا صدقہ کیا اور آگے بھیج دیا۔895ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ تُدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا ، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ، فَلَا يُنْفِقُ مِنْهَا إِلَّا اتَّسَعَتْ حَلَقَةٌ مَكَانَهَا، فَهُوَ يُوَسِعُهَا عَلَيْهِ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ، فَإِنَّهَا لَا تَزْدَادُ عَلَيْهِ إِلَّا اسْتِحْكَامًا (مسند احمد بن حنبل مسند المكثرين من الصحابه ، مسند ابی هریره رضی اللہ عنہ 7483) حضرت ابوہریر کا بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی للی کم نے فرمایا بخیل اور سخی کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جنہوں نے سینے تک لوہے کی قمیص پہنی ہوئی ہے جس میں وہ جکڑے ہوئے ہیں۔سخی جب کچھ خرچ کرتا ہے تو اس کی آہنی قمیص کا حلقہ کھل جاتا ہے اور اس طرح آہستہ آہستہ وہ قمیص کھل جاتی ہے اور آخر کار وہ اس کی جکڑ سے آزاد ہو جاتا ہے لیکن بخیل کو وہ قمیص جکڑتی چلی جاتی ہے اور اس طرح اس کی گرفت بڑھتی جاتی ہے۔